مکہ مکرمہ میں جنرل اتھارٹی برائے سڑکوں نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ہے، جن میں 10 منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی لاگت 495 ملین ریال سے زائد ہے۔
یہ افتتاحی تقریب علاقے کے امیر کی سرپرستی ان کے نائب کی موجودگی اور وزیرِ ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس کی شرکت میں منعقد ہوئی۔
ان منصوبوں کا مقصد حج اور عمرہ کے موسموں میںسڑکوں کے نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ٹریفک کی روانی کو مؤثر بنانا ہے۔
100 کلومیٹر سے زائد طویل اہم سڑکوں کی دوہری کاری
ان منصوبوں میں متعدد اہم شاہراہوں کی دوہری کاری شامل ہے، جن کی مجموعی لمبائی 100 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ان میں نمایاں منصوبہ حضن تربہ روڈ ہے، جس کی لمبائی 56 کلومیٹر اور لاگت 87 ملین ریال ہے۔
اس کے علاوہ رنیہ،خرمہ،ریاض،طائف ایکسپریس وے کا 22 کلومیٹر حصہ شامل ہے، جس پر 79 ملین ریال لاگت آئی ہے۔
مشاريع الطرق المدشنة في منطقة مكة المكرمة.. تعزز سهولة التنقل وتخدم ضيوف الرحمن. pic.twitter.com/H3zVPWE21M
— الهيئة العامة للطرق (@RGAsaudi) May 6, 2026
اسی طرح سیل الکبیرہ ریاض روڈ کا 21 کلومیٹر حصہ بھی دوہرا کیا گیا ہے، جس کی مالیت 138 ملین ریال ہے۔
مزید برآں مَہد،وادی الجموم،جدہ روڈ کے 9 کلومیٹر حصے کی دوہری کاری بھی کی گئی ہے، جس پر 75 ملین ریال خرچ ہوئے ہیں۔
ٹریفک کی حفاظت بڑھانے کے لیے مرمت اور بحالی کے اقدامات
ان منصوبوں میں مکہ مکرمہ، طائف اور الباحہ کی اہم سڑکوں پر متاثرہ مقامات کی مرمت اور بحالی کے کام شامل ہیں، جن پر 29 ملین ریال لاگت آئی ہے۔
اس کے علاوہ طائف میں ایک کلومیٹر طویل رنگ روڈ کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس کی لاگت 25 ملین ریال ہے ،یہ اقدامات سڑکوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ٹریفک کی حفاظت کی سطح بلند کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
مزید برآں مشاعرِ مقدسہ کی سڑکوں کی مرمت اور بہتری کے لیے 62 ملین ریال کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس کا مقصد آپریشنل تیاری کو مضبوط بنانا اور حج کے مقامات تک جانے والی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے، تاکہ موسمِ حج کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور آمدورفت کے تجربے کو بہتر بنانا
یہ منصوبے مکہ مکرمہ کے علاقے میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا اور ٹریفک کی حفاظت کے معیار کو بلند کرنا ہے۔
ان اقدامات سے تیز رفتار ترقیاتی ضروریات پوری ہوں گی اور حجاج، عمرہ زائرین اور عام مسافروں کے لیے سفر کے تجربے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔