اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے کے چند گھنٹے بعد ہی فضائی دفاع نے لبنان سے داغے گئے دو میزائل روکے۔
فوج نے ٹیلی گرام پر کہا، "شمالی اسرائیل کے کئی علاقوں میں رات 01:35 پر سائرن بجنے کے بعد آئی اے ایف نے لبنان سے اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے والے دو پروجیکٹائلز روکے۔"
فوج نے کہا کہ ایک "مشتبہ فضائی ہدف" کی بھی نشاندہی ہوئی جو بعد میں لبنانی سرحد کے قریب اسرائیلی علاقے میں گرا اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل اور حزب اللہ کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کیا جس کے بعد یہ پیش رفت ہوئی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ایک "بہت نتیجہ خیز" فون کال کے بعد ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل نیٹ ورک پر کہا، "بیروت میں کوئی فوجی نہیں جائے گا اور جو بھی فوجی وہاں کے راستے میں ہیں، وہ پہلے ہی واپس بھیج دیئے گئے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "اسی طرح اعلیٰ سطحی نمائندوں کے ذریعے میں نے حزب اللہ سے کال پر بہت مثبت بات کی اور انہوں نے اتفاق کیا کہ تمام فائرنگ بند ہو جائے گی - یعنی اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا اور وہ اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔"
نیتن یاہو نے بعد میں کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کو بتایا، "اگر حزب اللہ ہمارے قصبات اور شہریوں پر حملے بند نہ کرے تو اسرائیل بیروت میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرے گا۔"
لیکن ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اپنا دباؤ دوگنا کر دیا اور ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا، "امید ہے" اسرائیل اور حزب اللہ "ہمیشہ کے لیے" لڑائی بند کر دیں گے۔