کویت کے فضائی دفاع نے آج ہفتے کی صبح میزائلوں اور دشمن کے ڈرونز کے حملوں کو ناکام بنا دیا۔
کویتی فوج کے جنرل اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ سنائی دینے والے دھماکوں کی آوازیں، فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملے روکے جانے کا نتیجہ ہیں۔ ساتھ ہی عوام سے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی۔
تتصدى حالياً الدفاعات الجوية الكويتية لهجمات صاروخية وطائرات مسيرة معادية.
— KUWAIT ARMY - الجيش الكويتي (@KuwaitArmyGHQ) June 6, 2026
تنوه رئاسة الأركان العامة للجيش أن أصوات الانفجارات إن سمعت فهي نتيجة اعتراض منظومات الدفاع الجوي للهجمات المعادية.
يرجى من الجميع التقيد بتعليمات الأمن والسلامة الصادرة عن الجهات المختصة.… pic.twitter.com/88tTHBcKAd
بحرین میں خطرے کے سائرن
ادھر بحرین کی وزارت داخلہ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ملک میں سائرن بجنے کا اعلان کیا اور شہریوں و مقیمین سے پُر سکون رہنے اور قریب ترین محفوظ مقام پر جانے کی درخواست کی۔
تم إطلاق صافرة الإنذار ، نرجو من المواطنين والمقيمين الهدوء والتوجه لأقرب مكان آمن ومتابعة الأخبار عبر القنوات الرسمية.
— Ministry of Interior (@moi_bahrain) June 6, 2026
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ "خطے میں دشمن کے ٹھکانوں پر فضائی میزائل حملے کیے گئے"۔
سات میزائل
امریکی فوج نے انکشاف کیا کہ ایران نے کویت اور بحرین کی جانب 7 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے 6 کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچا۔
— U.S. Central Command - Arabic (@CENTCOMArabic) June 6, 2026
امریکی فوج نے "ایکس" پر لکھا کہ امریکی اہل کاروں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچنے کے ایرانی دعوے غلط ہیں۔ یہ پیش رفت جمعے کی شام امریکی فوج کی جانب سے "اپنے دفاع" میں ایران میں ریڈار سائٹس پر بمباری کے بعد ہوئی، جب واشنگٹن کے مطابق 4 ایرانی ڈرونز نے خطے میں شہری بحری جہاز رانی کو خطرے میں ڈالا تھا۔
30 ایرانی میزائل اور ڈرون حملے
یاد رہے کہ کویتی فوج نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ اس نے اپنی سرزمین کو نشانہ بنانے والے 30 ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا ہے۔ اس ایرانی جارحیت کے نتیجے میں شہری و اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا، جن میں کویت کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی شامل تھا جو مختصر مدت کے لیے بند رہا اور اس واقعے میں ایک بھارتی مقیم کی موت ہو گئی۔
کویتی وزارت صحت کے مطابق ہوائی اڈے پر حملے میں کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے، جن میں مسافر اور ملازمین شامل ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
کویتی وزارت خارجہ نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہونے والے مسلسل ایرانی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں سے سفارتی مشنوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ وزارت نے کویت میں ایران کے قائم مقام ناظم الامور کو طلب کر کے با ضابطہ احتجاجی یاد داشت پیش کی۔ یاد داشت میں سفارت خانے کے عملے میں کمی کا فیصلہ اور دو سفارت کاروں کو "نا پسندیدہ" قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم بھی شامل تھا۔
اس کے برعکس پاسداران انقلاب نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے ترجمان حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ کویت ایئرپورٹ کے ٹرمینل کو نشانہ بنانے میں ان کی فضائیہ ملوث نہیں ہے اور یہ تباہی امریکی پیٹریاٹ سسٹم کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے اس دعوے کو "مکمل جھوٹ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے براہ راست شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا اور یہ حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غیر منصفانہ طور پر کیا گیا تھا۔
یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے باوجود ہوئی ہے، جس کا مقصد 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کو روکنا ہے۔ تہران مسلسل خلیجی ممالک بالخصوص کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور سلطنت عمان کو نشانہ بنا رہا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ امریکی مفادات کو ہدف بنا رہا ہے۔