ایران نے اس خط کا جواب دے دیا ہے جو پاکستانی وزیر داخلہ نے پہنچایا تھا : ذرائع

ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے عمل کے تعطل کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اعلیٰ سطح کے ذرائع نے "العربیہ" اور "الحدث" کو بتایا ہے کہ ایران نے اس خط کا جواب دے دیا ہے جو پاکستانی وزیر داخلہ نے تہران حکام کو پہنچایا تھا۔
ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ذریعے نے کہا ہے کہ "امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے عمل کے تعطل کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔"

"العربیہ" اور "الحدث" کے ساتھ اپنی گفتگو میں اعلیٰ سطحی سفارتی ذریعے نے نشان دہی کی کہ پاکستان اور قطر نے معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے گذشتہ چند گھنٹوں میں اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ "ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں"۔
عارضی جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان کئی بار فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، حالانکہ مذاکرات کار اس جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اب اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ معاہدہ قریب ہے، حالانکہ پیش رفت کے کوئی اشارے موجود نہیں ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے بم باری دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

بدھ کی صبح سویرے امریکی فوج نے پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی حملہ آور ہیلی کاپٹر کو مار گرائے جانے کے بعد اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے ارد گرد فضائی دفاع اور ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔

امریکی فوج نے جمعرات کی صبح فجر کے وقت کہا کہ اس کے تازہ ترین حملوں کا مقصد "ایران میں عسکری نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظاموں اور فضائی دفاعی مقامات" کو نشانہ بنانا تھا، جو اس کے مطابق تہران کی جانب سے "بلا اشتعال اور مسلسل جارحیت" کا جواب ہے۔

ایران نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کرکے جواب دیا۔ ایک امریکی عہدے دار نے کہا کہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے کویت، بحرین اور اردن میں اہداف پر حملے کر کے جواب دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے تہران کے وقت کے مطابق آدھی رات کے فوراً بعد شروع ہونے والے حملوں کے تقریباً چار گھنٹے بعد ان کے ختم ہونے کا اعلان کیا۔
اس جنگ میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ایران نے آبنائے کو بند کر دیا ہے جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں