پھنسے ہوئے ملاحوں کے انخلا کا عُمانی منصوبہ... خلیج تعاون کونسل کی جانب سے خیر مقدم
البدیوی کی جانب سے ایران کے دعوؤں اور آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کی آزادی کے لیے دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت اور انکار
خلیجی تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے سلطنت عمان کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے جو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے 11 ہزار سے زائد پھنسے ہوئے ملاحوں کے انخلا کے لیے عارضی بحری راہ داری کے استعمال کے منصوبے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔
یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور سمندری قوانین کے مطابق ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کی آزادی کو بغیر کسی پابندی یا شرط کے فروغ دینا ہے۔
البدیوی نے عمانی اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی اور استحکام کی حمایت، بحری نقل و حمل کی حفاظت، اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو مستحکم کرنے میں سلطنت عمان کے دانش مندانہ طرز عمل کا عکاس قرار دیا، جو علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کی روانی کو یقینی بنانے میں معاون ہے۔
ساتھ ہی خلیجی تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل نے آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کی آزادی کے بارے میں ایران کی جانب سے جاری کردہ دعوؤں اور دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جو کہ پھنسے ہوئے ملاحوں کے انخلا اور علاقائی و عالمی معیشت کے سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے اس "قابل قدر" عمانی اقدام کے بعد سامنے آئے ہیں۔
خلیجی تعاون کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام سمندری تحفظ کو مضبوط بنانے، سلامتی و استحکام کو مستحکم کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کے لیے خلیجی ممالک کی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔