امریکی حملوں کے جواب میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج کے علاقے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی امریکی فوج کی جانب سے ایران کے اندر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی، جیسا کہ ایرانی سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران میں متعدد اہداف پر حملے کیے ہیں۔ امریکی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کی گئی تھی، جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جارحیت دوبارہ کی گئی تو ہمارا جواب مزید وسیع اور سخت ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے جمعہ کے روز ایران پر حملہ کیا، جو مبینہ طور پر ایک ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا تھا جس میں آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ دونوں فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بتایا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے ایران میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ فوجی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔

دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنوبی شہر سیرک کے قریب ایک بحری علاقے میں ایک میزائل گرا، جبکہ ایرانی بحریہ نے خطے میں موجود امریکی اہداف پر جوابی کارروائی کی۔

اسی دوران ایک اور محاذ پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان نے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں ،جس کا مقصد اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہے۔

تاہم دونوں فریقین نے اسے ایک ابتدائی قدم قرار دیا ہے، جس کے تحت حزب اللہ سے غیر مسلح ہونے اور اسرائیل سے لبنان سے اپنی افواج کے انخلا کی توقع ظاہر کی گئی ہے، مگر اس پر عملدرآمد کا طریقہ واضح نہیں ہو سکا اور حزب اللہ نے اس سے تعاون سے انکار کیا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی بالادستی پر زور دیتے ہوئے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ صف بندی سے گریز کریں۔

یہ بیان اس حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں جمعرات کو عمان کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے اسے گزشتہ ہفتے کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہازوں پر کیا گیا'' بلا جواز حملہ'' جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہے اور امریکی فضائی حملے گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا ''سخت جواب'' ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق وہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل ضروری رابطہ کاری اور مدد فراہم کر رہی ہے۔

جارحیت کا جواب جارحیت سے دیا جائے گا

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے، جسے مفاہمتی یادداشت بھی کہا جاتا ہے، کی مکمل پاسداری کی ہے۔ وینس پہلے ایران میں امریکی مداخلت کے حوالے سے شکوک رکھتے تھے، اب اس تنازع میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ترین ذمہ دار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ایران نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ہم نے اس کا احترام کیا ہے۔ اگر انہیں مفاہمتی یادداشت کے اطلاق پر کوئی اعتراض ہے، تو وہ ہمیں فون کر سکتے ہیں، لیکن جارحیت کا جواب جارحیت سے دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک غیر نامعلوم فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ حملہ جنوبی بندرگاہ سیرک کے علاقے میں کیا گیا، جہاں دھماکے کی آواز سنی گئی۔

اسی ذرائع کے مطابق سیرک سے کئی انتباہی فائر ان بحری جہازوں کی طرف کیے گئے ،جو آبنائے ہرمز کے ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مزید بتایا گیا کہ قریبی علاقے کاربان سے بھی دو میزائل آبنائے ہرمز کی طرف فائر کیے گئے۔

پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ایرانی بحریہ نے اس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی دہشت گرد فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ کسی بھی مزید امریکی کارروائی کا جواب پہلے سے زیادہ وسیع سطح پر دیا جائے گا۔

ایرانی بیان کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر ایران کو کنٹرول دیتا ہے، تاہم امریکا نے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ امریکا نے مختلف محاذوں پر کشیدگی بڑھا کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، ہر بار مناسب جواب دیا جائے گا، جبکہ آئندہ جارحیت کی صورت میں ردعمل مزید سخت ہوگا۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات اور جنگ بندی کے اصولوں کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح ان کے لیے پسپائی اور پچھتاوے کا باعث بنے گی۔

تیل کی قیمتوں میں کمی

تشدد میں دوبارہ اضافے سے قبل جمعہ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً تین فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ یہ ہفتہ وار بنیادوں پر بھی بڑی خسارے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

اس کمی کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی کہ تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے ہٹ رہے ہیں، جو عام طور پر عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

اسی دوران آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے عالمی خوراکی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔

اپنے حالیہ خلیجی دورے کے اختتام پر، جہاں انہوں نے خطے میں جنگ بندی کے حوالے سے تشویش کا شکار اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کیا ،جس میں بغیر کسی شرط اور رکاوٹ کے بحری آزادی پر زور دیا گیا اور کسی بھی قسم کی یکطرفہ بندش یا کنٹرول کی کوششوں کی مخالفت کی گئی۔

دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ طور پر ہونا چاہیے۔

ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی نے خلیجی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اسٹریٹجک بقا تہران کی برداشت پر منحصر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں