اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے ایک روز قبل جنوبی شام میں کئی "مسلح" عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔
ایک بیان میں کہا گیا، "کل (ہفتے کو) اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی شام کے سکیورٹی زون میں کئی مسلح دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔"
اسرائیلی فوج نے 2024 کے اواخر سے جنوبی شام کے علاقے میں قبضہ کر رکھا ہے جسے وہ "سکیورٹی زون" کہتا ہے اور کہا ہے کہ وہ "اسرائیلی شہریوں اور اپنے فوجیوں کو لاحق کوئی بھی خطرہ دور کرنے کے لیے وہاں موجود رہے گی۔"
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ اسرائیل کا شام میں نیز لبنان اور غزہ میں بھی اپنے فوجیوں کو "لامحدود مدت کے لیے" رکھنے کا منصوبہ تھا۔
دسمبر 2024 میں شام کے دیرینہ حکمران بشار الاسد کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے اسرائیل نے شام کی سرزمین میں بار بار دراندازی کے ساتھ ساتھ بمباری بھی کی اور کہا ہے کہ وہ ملک کے جنوب میں ایک غیر فوجی زون چاہتا ہے۔
باہمی کشیدگی کے باوجود اسرائیل اور شام کے نئے حکام نے براہِ راست مذاکرات کے کئی ادوار منعقد کیے ہیں اور سکیورٹی معاہدے کی طرف بڑھتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اسرائیلی افواج شام سے نہیں نکلیں گی، اپنے اس انتباہ میں کاٹز نے ایران سے یہ بھی کہا کہ اگر اسلامی جمہوریہ نے لبنان میں اس کی مہم کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا تو "پوری طاقت" سے جوابی کارروائی کی جائے گی۔