آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کااختیار صرف ایران کے پاس ہے:عراقچی کا دوٹوک مؤقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ باہمی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کو سرکاری دورے پر عراق کے دارالحکومت بغداد پہنچ گئے۔

عباس عراقچی نے اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رکاوٹیں دور ہوتے ہی آبنائے ہرمز میں حالات دوبارہ معمول پر آ جائیں گے۔

ان کے بقول کسی بھی دوسرے فریق کی مداخلت صرف خلیج میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو معمول پر لانے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنائے گی۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے کی ذمہ داری صرف ایران پر عائد ہوتی ہے۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے عراق کے تعاون اور حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران، وزیراعظم علی الزیدی کی قیادت میں نئی عراقی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ تہران عراق کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے عراقی ہم منصب فواد حسین بغداد میں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے عراقی ہم منصب فواد حسین بغداد میں

جنگ جاری رہنے پر تباہی کا انتباہ

عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر تبادلۂ خیال کے لیے انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عباس عراقچی نے انہیں واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی مفاہمت اور حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔فواد حسین نے بغداد اور تہران کے درمیان تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایران پر جنگ مسلط کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عراقی تیل کی ترسیل رک گئی ہے، لہٰذا اس اہم بحری گزرگاہ کو بغیر کسی رکاوٹ کے دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔

عراقی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے تباہ کن اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور وسیع پیمانے پر تباہی کا سبب بنیں گے۔


خطے میں کشیدگی میں اضافہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

ہفتہ اور اتوار کو امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران امریکی فوج نے آج علی الصبح جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے واقعے کے ردعمل میں کی گئی۔

دوسری جانب ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی اس نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کرنے اور کسی بھی نئی اشتعال انگیزی کا مزید سخت جواب دینے کی دھمکی بھی دی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کو دوبارہ جنگ شروع کرنا پڑی تو ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے تہران پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 18 جون کو دستخط ہونے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں دونوں ممالک کے درمیان دشمنانہ کارروائیاں روکنے اور مختلف معاملات پر ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا تھا

ان معاملات میں آبنائے ہرمز، ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا طریقۂ کار اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔

یہ بھی طے پایا تھا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی کمیٹیوں کے اجلاس آئندہ چند روز میں قطر اور اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں