غزہ میں خوراک کی فراہمی میں بہتری تاہم غذائی کمی کا سلسلہ جاری: بین الاقوامی تنظیم
عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کی پٹی کو وافر مقدار میں خوراک کی فراہمی کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے
خوراک کی سکیورٹی کے شعبے کے ایک ممتاز بین الاقوامی ادارے کے مطابق غزہ کی پٹی میں خوراک کی سکیورٹی کی صورتحال میں گذشتہ سال فلسطینی علاقے کے کچھ حصوں میں قحط کے اعلان کے بعد سے بہتری آئی ہے... تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ حالات اب بھی بحران کی سطح پر ہیں اور یہ کہ وہ دوبارہ بگڑ کر کسی تباہی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
"انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن" (آئی پی سی) نے بتایا کہ لڑائی کی شدت میں کمی، نیز اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مزید امداد کے داخلے کی اجازت دینے نے اس بہتری میں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ جنگ کی ہول ناکیوں سے متاثرہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے 21 لاکھ باشندوں کی اکثریت کے لیے خوراک کا استعمال اب بھی نا کافی ہے۔
"انٹیگریٹڈ فیز کلاسیفیکیشن" کا ادارہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ غزہ میں حالات گذشتہ سال سے نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں، جبکہ وہ جلد بحالی کی کسی علامات کے بغیر اب بھی نازک سطح پر موجود ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) غزہ کی پٹی کو وافر مقدار میں متنوع اور مغذی خوراک فراہم کرنے اور بچوں و کمزور طبقات کے لیے علاج معالجے کے سامان کے ساتھ ساتھ ادویات اور بنیادی سامان کی رسائی میں تیزی لانے کے لیے فوری اور مسلسل کوششوں کی اپیل کرتا ہے۔ بحالی میں مدد اور مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے خوراک اور ادویات کا بہاؤ مسلسل اور بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت شہریوں اور صحت کے شعبے کی حفاظت کی اپنی اپیل کو دہرا رہا ہے۔