امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر کسی بھی ایرانی حملے کا فوجی جواب دے گا اور خبردار کیا کہ میزائل، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے کیے گئے کسی بھی حملے کا مقابلہ ایران کے اندر ایک اہم تنصیب پر امریکی بمباری سے کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر اپنے ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ واشنگٹن ایک پل یا ایک پاور سٹیشن پر بمباری کر کے اسے تباہ کر دے گا۔ اگر ایران نے آبنائے میں کسی بھی جہاز پر فائرنگ کی تو ہمارے اہداف میں دارالحکومت تہران کے قریب یا اس کے اندر موجود تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اب سے جب بھی ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر فائرنگ کرے گا ، خواہ وہ میزائل سے ہو، ڈرون سے ہو، یا کسی اور آلے یا ہتھیار سے ہو، امریکہ ایک پل یا ایک پاور سٹیشن کو بمباری کر کے تباہ کر دے گا۔
امریکی صدر نے یہ دھمکی ایک ایئر بیس کی طرف روانگی سے کچھ دیر پہلے دی جہاں ان کا ان تین امریکی فوجیوں کی باقیات کی واپسی کی تقریب میں شرکت کا پروگرام تھا۔ یہ فوجی اردن اور عراق میں تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں میں مارے گئے تھے۔
انہوں نے روانگی سے قبل صحافیوں سے کہا کہ ان تمام لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ اس لیے ہم اس عزم کو پورا کریں گے۔ میرے لیے یہ ان مشکل ترین چیزوں میں سے ایک ہے جو مجھے بطور صدر کرنی پڑتی ہیں لیکن اسے پورا کرنا ضروری ہے۔
ٹرمپ نے نومبر میں مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ کے اختیار کی ووٹرز کی جانب سے حمایت نہ کیے جانے کو ظاہر کرنے والے پولز کو بھی کم اہم قرار دیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ معیشت کی لاگت میں شدید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
ایرانی ردعمل
دوسری جانب نیوز ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘ ایک فوجی ذریعہ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن ایرانی پلوں یا پاور سٹیشنوں پر حملے کرتا ہے تو ایران خطے میں امریکہ سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر جواب دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت اس وقت محفوظ ہو گی جب یہ ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اس کے طے کردہ انتظامات کے مطابق ہو ورنہ ایران آبنائے پر کنٹرول کے اپنے حتمی ارادے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جیسا کہ انہوں نے تعبیر کیا۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران ایک شدید مشقت میں ہے۔ اگر تہران تعاون نہیں کرتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بہت سے اختیارات موجود ہیں۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران نے مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے التزامات کی پاسداری نہیں کی اور وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا یادداشت کا ایک بنیادی نقطہ تھا لیکن ایران نے اس کی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے ذریعے بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنا رہا ہے اور نشاندہی کی کہ تہران نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جو جہازوں کو نشانہ نہ بنانے پر زور دیتی ہے۔ ایران پر امریکی فضائی حملوں کی گیارہویں رات آ پہنچی جہاں سفارتی کوششوں نے پیش رفت کے کوئی واضح علامات نہیں دکھائے۔
فریقین کے حکام نے آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع پر اپنے موقف کو برقرار رکھا، عالمی توانائی کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور ایرانی حملوں کی وجہ سے بڑی حد تک بند ہے۔ آبنائے کی بندش جس سے امن کے اوقات میں دنیا کی تیل اور گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ عالمی معیشت کو مفلوج کرنے کا باعث بنی جس کے اثرات مشرق وسطی کے خطے سے کہیں آگے تک پہنچ گئے۔