مغربی کنارے میں جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی اور چار فلسطینی قتل نیتن یاہو کا سخت ردعمل
فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں جمعہ کے روز پرتشدد واقعات میں ایک اسرائیلی آباد کار ہلاک جب کہ اسرائیلی فوج نےچار فلسطینیوں کو قتل کردیا۔ مغربی کنارے میں ہونے والے پرتشدد واقعے میں اسرائیلی کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
بنجمن نیتن یاہو نے اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ہم دہشت گردوں اور انہیں بھیجنے والوں کے خلاف سختی سے کارروائی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس خونریز حملے کے جواب پر غور کرنے کے لیے سکیورٹی عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کریں گے۔
اسرائیل نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ مغربی کنارے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں جبکہ فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم چار فلسطینی شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں نابلس کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ جمعہ کی صبح مغربی کنارے میں واقع بستی گیوات گیلاد کے قریب پیش آیا۔
دوسری طرف فلسطینی وزارت صحت نے مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبہ تل میں قابض اسرائیلی فورسز کی گولیوں سے کم از کم چار فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی۔
وزارت نے ایک مختصر بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ قصبے میں یہودی آباد کاروں کے حملے کا مقابلہ کرنے کے دوران فورسز کی فائرنگ سے چار دیگر شہری بھی زخمی ہو گئے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
یہودی آباد کاروں نے نابلس کے جنوب مغرب میں واقع قصبہ تل میں شہریوں کے گھروں پر حملے کیے اور شہریوں کے گھروں کی طرف براہ راست گولیاں چلائیں۔
وزارت صحت کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے کے گورنریوں میں 82 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے 21 یہودی آباد کاروں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔