یورپی اور دیگر باخبر سفارتی ذرائع نے نیوز ویب سائٹ "ایگزیوس" کو بتایا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کے سایہ میں آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی کی حفاظت کے لیے ایک ممکنہ بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل پر بات چیت کے لیے اگلے ہفتے لندن میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
یہ قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن تجارتی جہاز رانی کی آمدورفت کے لیے آبنائے کو دوبارہ کھولنا ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کی حکمت عملی کے اہم ترین عناصر میں سے ایک سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے بھی ایک بنیادی قدم ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اجلاس کی تاریخ اور اس کے ایجنڈے پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے اور حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے تاہم توقع ہے کہ اس میں مغربی ممالک اور خطے کے ممالک کے وزرائے دفاع اور سینئر فوجی قائدین شرکت کریں گے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس یا امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ان معلومات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ واشنگٹن میں برطانوی سفارت خانے نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
روزانہ امریکی حملے
جب سے ایران نے دو ہفتے قبل آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے، امریکہ ملک کے جنوبی ساحل کے ساتھ ایرانی فوجی اہداف کے خلاف روزانہ حملے کر رہا ہے۔ چار دنوں کے دوران تجارتی جہازوں کے خلاف کوئی ایرانی حملہ درج نہیں ہوا ہے۔
کچھ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں آبنائے کے ارد گرد ایرانی فوجی صلاحیتیں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ اس کے برعکس دیگر حکام کا خیال ہے کہ ایران کے پاس ابھی بھی خطے میں بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر ایران آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانا جاری رکھتا ہے تو وہ تہران کے اندر سمیت پلوں اور بجلی کے پاور ہاؤسز پر بمباری کریں گے۔ تہران نے امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اس دھمکی کا جواب دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ، جو امریکی ایرانی بات چیت میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں متعدد اقدامات اور تجاویز پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اور امریکہ کے درمیان مسئلہ ثالث کی عدم موجودگی نہیں ہے بلکہ امریکہ کا رویہ ہے۔
عباس عراقچی نے زور دیا کہ ایران امریکی غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا اور آبنائے ہرمز میں اپنے مفادات کی حفاظت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ایرانی عوام کے جائز اہداف اور مطالبات حاصل نہیں ہو جاتے تب تک ہمارا اپنا رویہ جاری رکھنا قدرتی بات ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق عراقچی نے عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اس بات چیت کے دوران انہوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہاز رانی کی سکیورٹی اور تجارتی جہازوں کے گزرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزراء نے بحری جہاز رانی کی سکیورٹی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے مقصد سے علاقائی حل اور تعاون کے پہلوؤں پر بات چیت کی۔
بین الاقوامی بحری اتحاد
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کے حوالے سے گزشتہ مہینوں کے دوران برطانیہ اور فرانس کی جانب سے متعدد ممالک کے ساتھ کی گئی مشاورت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے ممالک نے پہلے آبنائے میں جنگ بندی کی شرط رکھی ہے تاکہ ایک محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے جو بین الاقوامی بحری مشن شروع کرنے کی اجازت دے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں سے خطے میں فوجی صلاحیتیں بھیجنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ بارودی سرنگیں ہٹانے والے جہاز، بحری جہاز اور ڈرون بھیجے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانے میں حصہ لیا جا سکے۔