یمن کے شہر الحدیدہ میں اسلحہ کے گوداموں میں دھماکے: العربیہ ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعہ کی شام مغربی یمن کے شہر الحدیدہ میں اسلحہ کے گوداموں میں دھماکے ہوئے۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا، جبکہ اس حوالے سے حوثیوں کے بیانات کی تردید کی گئی ہے۔

دوسری جانب یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے صوبہ الحدیدہ میں حوثی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم واضح کیا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو ہدف نہیں بنایا گیا۔

اتحاد نے زور دیا کہ:الحدیدہ کی تمام بندرگاہیں بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں۔

اتحاد کے مطابق تباہ کیے گئے اہداف ان سرگرمیوں سے متعلق تھے جو بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔

یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ:دہشت گرد حوثی ملیشیا نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر ایک بزدلانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کیا، جس سے اس کے جرائم اور بحری دہشت گردی کی فہرست میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

المالکی نے مزید کہا کہ سعودی عرب مشکل ترین حالات اور بدلتے ہوئے حالات میں بھی برادر یمنی عوام اور ان کی حکومت کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی دہشت گرد حوثی ملیشیا کے مقابلے میں ان کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ:الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور یمن کی تمام بندرگاہیں، جن میں (الحدیدہ، رأس عیسیٰ اور الصلیف) شامل ہیں، بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں۔ یہ بندرگاہیں خوراک، تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد لانے والے تجارتی جہازوں کو وصول کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے ہوائی اڈوں پر بھی پروازیں جاری ہیں، تاہم حوثی ملیشیا اب بھی صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازیں بحال کرنے سے انکار کر رہی ہے اور اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں یمنی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔

میجر جنرل ترکی المالکی نے وضاحت کی کہ:اتحاد نے ایک فیصلہ کن اور مضبوط جواب دیا، جبکہ اس کی اولین ترجیح برادر یمنی عوام کے وسائل اور مفادات کا تحفظ تھا۔ کارروائی میں حوثی دہشت گرد ملیشیا کے ان جائز فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو بحیرۂ احمر میں جہازوں کو لاحق خطرات سے متعلق تھے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی جوابی کارروائی تناسب کے اصول اور طے شدہ آپریشنل اہداف کے حصول کے بعد مکمل کر دی گئی۔ ان کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی قواعد کے مطابق کی گئی اور اس میں تناسب کے اصول کو مدنظر رکھا گیا۔

المالکی نے مزید کہا:اتحادی افواج کی مشترکہ کمان اپنے جہازوں، سعودی عرب کے مفادات اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے تمام ضروری آپریشنل اقدامات اور تدابیر جاری رکھے گی۔ اگر حوثی ملیشیا اپنی دشمنانہ کارروائیاں جاری رکھتی ہے ،تو اس کا جواب بغیر کسی نرمی کے دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں