امریکہ کے حملے موقوف کر دینے کے بعد جوابی حملے روک دیے گئے ہیں: ایرانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جیسا کہ واشنگٹن نے گذشتہ دو راتوں سے ملک پر اپنے حملے موقوف کر دیے ہیں تو ایران نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے شرقِ اوسط میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی حملے روک دیے ہیں۔

ایرانی اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ جنگی سازوسامان میں کمی کے خدشات سے مزید حملوں کے منصوبوں رک گئے ہیں۔
تقریباً دو ہفتوں کی مسلسل امریکی بمباری کے بعد جنگ میں حالیہ وقفے نے مذاکرات کی طرف واپسی کی امیدیں زندہ کر دی ہیں تاہم امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخیرے پر دباؤ اس وقفے کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا سی این این نے پینٹاگون کے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا، ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں "موقوف ہیں" حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو "کہیں زیادہ شدید" حملوں کی دھمکی دی تھی۔

دی نیویارک ٹائمز نے اس معاملے سے واقف دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہتھیاروں کی رسد کم ہونے کی وجہ سے فوجی مہم کو وسعت دینے کے منصوبے جزوی طور پر رک گئے ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس اور اعلیٰ امریکہ کے جنرل ڈین کین دونوں نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کی میٹنگ میں کشیدگی میں اضافے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا، سی این این نے اطلاع دی۔

چینل کے مطابق کین نے ٹرمپ کو بتایا کہ فوج ان کے لیے دستیاب امکانات کامیابی سے انجام دے سکتی ہے لیکن ممکنہ مضمرات سے خبردار کیا۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر منگل کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن سے پہلے امریکہ نے اپنے حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو جنگ مزید وسعت اختیار جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں