پاکستانی ٹی وی چینل شو میں بے اولاد جوڑوں میں لاوارث بچوں کی تقسیم

عامر لیاقت نے رمضان کو امن کی علامت بنا کر پیش کیا: سی این این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل "جیو" کی خصوصی رمضان نشریات نے ہم عصر ٹی وی چینلز کے مابین چھڑنے والی مقبولیت کی جنگ میں "امان رمضان' کے میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے تمام چینلزکو پیچھے چھوڑدیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ ماہ رمضان میں شام کے وقت سات گھنٹے کی براہ راست نشریات میں پاکستان کے ممتاز اسکالر، میگا اسٹار اور خواتین میں خاص طور پر مقبول ڈاکٹرعامر لیاقت حسین پانچ سو سے زائد پرجوش حاضرین میں دینی نوعیت کے ایک آسان سوال پر ملبوسات، موٹر سائیکل اور الیکٹرونک مصنوعات بطورانعام دیتے ہیں، کھانا بھی پکاتے ہیں اور نعتیں بھی پڑھتے ہیں اور اپنے گارڈن میں بچوں سے شیر، سانپ، خرگوش اور بکریوں کے ساتھ دین کی باتیں بھی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پروگرام کی سب سے خاص بات بے اولاد افراد کو اُن بچوں کی حوالگی ہے جو کوڑے کے ڈھیر پر پڑے پائے جاتے ہیں۔ سی این این نے اپنے نمائندے کے حوالے سے بتایا کہ ڈاکٹرعامر لیاقت حسین اپنی اس شہرہٴ آفاق نشریات میں دو بے اولاد جوڑوں کودو بچیوں کی شکل میں اولاد کا تحفہ دے چکے ہیں۔ بے اولادوں کواولاد دے کر ریٹنگ میں اضافے کے حوالے سے بعض ناقدین کی جانب سے پیش کردہ منفی تاثر کی پُر زور تردید کرتے ہوئے ڈاکٹرعامر لیاقت حسین نے کہا کہ اس عمل کا مقصد ہر گز ریٹنگ بڑھانا نہیں ہے اور جو ایسا سوچتا ہے وہ ایک درد مند دل نہیں رکھتا۔ اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ وہ بچے جنہیں لوگ غربت یاکسی اور بناء پر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں اور جواس حالت میں ہم تک پہنچتے ہیں کہ جن کے بعض اعضاء کو جانوروں نے کھایا ہوا ہوتا ہے تو کیوں نہ ہم انہیں موت کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے کسی ایسے خاندان کے حوالے کر دیں جو انہیں بہتر مستقبل دے سکے کیونکہ گر ان بچوں کو بہتر مستقبل نہیں ملے گا اور وہ یونہی گلی محلوں میں پروان چڑھیں گے تو کسی غلط ہاتھوں میں جا پہنچیں گے جس کے نتیجے میں یہ خودکش بمبار بھی بن سکتے ہیں تو کیوں نہ ہم انہیں ایک متبادل راستہ اور جینے کاذریعہ فراہم کریں۔

ڈاکٹر عامر لیاقت نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو کوڑے خانوں پر نہ پھینکیں بلکہ اسے فلاحی اداروں کے سپرد کریں اور اس معاشرے کا ذمے دار شہری بننے میں ان کی مدد کریں تا کہ وہ بڑے ہو کرمعاشرے میں دہشت گردی کے اضافے کا سبب نہ بن سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا ریٹنگ میں اضافے سے اس لیے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مقبولیت تو پہلے ہی دن اپنے جھنڈے گاڑھ چکی تھی جبکہ پہلی بچی ہم نے چوتھے روزے کو بے اولاد جوڑے کے حوالے کی ہے لہٰذا اس کا ریٹنگ سے کوئی واسطہ نہیں یہ واضح خدمت خلق ہے۔

اس موقع پر اُن کے ساتھ موجود ایک فلاحی ادارے کے سربراہ رمضان چھیپا نے بتایا کہ ہم یہ بچے یونہی کسی کے حوالے نہیں کر دیتے بلکہ اس کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہوتا ہے جس کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ان بے اولاد جوڑوں کی رجسٹریشن کرتے ہیں ان سے چار پانچ ملاقاتیں کی جاتی ہیں اور مکمل تحقیق اور اطمینان کے بعد بچے ان کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ ایک بے اولاد جوڑے کو اولاد کی نعمت ملنے پر تبصرہ کرتے ہوئے سی این این کے نمائندے نے لکھا ہے کہ کئی برس بعد اولاد جیسی نعمت کے حصول میں کامیاب ہونے والی ثریا بلقیس نے بچی ملنے پر انتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ اُنہیں نشریات میں اولاد کی نعمت مل جائے گی۔

سی این این کے نمائندے سے گفتگوکے دوران امان رمضان نشریات کے مقاصد پر گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ امن اور محبت کا پرچار اس نشریات کی اصل روح اورمقصد ہے اور ہم محبت پھیلا کر ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی ٹوٹی ہوئی قوم کو ایک لڑی میں پرونا جوکہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی شکار ہے اور عدم برداشت کی سزا بھی بھگت رہی ہے۔

چیئریٹی کے ذریعے اُن کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنا اور ان میں امید کی جوت جگانا بھی ایک عبادت ہے جووہ کر رہے ہیں اور بے اولادوں کو اولاد دینا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سی این این نے نشر ہونے والی اپنی رپورٹ میں امان رمضان اور ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے یہ نشریات توقعات سے کہیں بڑھ کر مقبولیت کی منزلیں طے کر رہی ہے، ریٹنگ کے ریکارڈز پاش پاش ہو رہے ہیں اور اِس نشریات میں صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ اقلیتی برادری کو بھی مدعوکیا جا رہا ہے جن میں ہندو، سکھ اور مسیحی برادری شامل ہے جس کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں