.

بے نظیر قتل کیس، پرویز مشرف کے خلاف فرد جرم عائد

پاکستان میں پہلے سابق فوجی آمر کو عدالتی کارروائی کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق فوجی آمر پرویز مشرف پر سابق وزیرِ اعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے مقدمہ قتل کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

منگل کے روز عدالت میں پرویزمشرف کی موجودگی میں فرد جرم عائد ہونے اور اگلی سماعت 27 اگست تک ملتوی ہونے کے بعد سرکاری پراسیکیوٹر محمد اظہر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس پیشی کے دوران سابق صدر مشرف پر قتل کرنے، قتل کی منصوبہ بندی کرنے اور اس سلسلے میں مدد فراہم کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

جدید جوہری اسلحہ سے لیس ریاست پاکستان ، جس نے اپنی تاریخ کے 66 سال میں سے نصف عرصہ فوجی آمروں کی ریاستی و حکومتی سربراہی میں گزارا ہے ۔ 1999ء میں برسرِ اقتدارآنے والے آرمی چیف پرویز مشرف تقریبا نو سال تک طاقتورترین شخص تھے انہیں منگل کے روز سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں فردِ جرم کا سامنا کرنا پڑا تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔

یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق فوجی حکمران عدالت میں پیش ہونا پڑا ہے۔

ملزم پرویز مشرف کے ایک وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ''بتایا کہ سماعت کے دوران ان کے موکل نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی اور صحافیوں کو کوئی بیان نہیں دیا ہے۔'' یاد رہے کہ صرف 20 منٹ تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے دوران صحافیوں کو عدالت میں جانے کی اجازت نہ تھی۔

سابق صدر پرویزمشرف کی گاڑی کی آمد پر پولیس نے عدالت کی طرف جانے والی سڑک کے ساتھ ساتھ چھتوں پر بھی سینکڑوں کی تعداد میں نفری تعئینات کر رکھی تھی۔

انکی وکیل افشاں عادل نے کہا ان کے موکل کے خلاف تمام مقدمات من گھڑت ہیں۔ عدالتی کارروائی 27ء اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو کئی سال تک خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پاکستان آںے کے چند ہفتوں کے دوران ہی ایک الیکشن ریلی میں شہید ہو گئی تھیں۔ حکومتِ وقت نے تحریکِ طالبان پاکستان پر اس حملے کا الزام لگایا تھا۔ جنرل مشرف کے مطابق انہوں نے محترمہ کو خطرات سے پیشگی آگاہ کر دیا تھا۔