.

جنیوا ٹو میں شام میں انتقال اقتدار کی ضمانت دی جائے: ریاض

عرب ۔ اسرائیل کشمکش خطے کا سب سے بڑا چیلنج ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اگلے سال کے آغاز میں ہونے والے جنیوا کی دوسری کانفرنس میں شام میں کشت وخون کے خاتمے اور انتقال اقتدار کے فریم ورک کی ضمانت فراہم کی جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی مجلس شوریٰ کے چیئرمین ڈاکٹرعبداللہ آل الشیخ نے یہ مطالبہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ فیڈریشن آف ایشین پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے چھٹے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شام کے بحران کے حل کے لیے مجوزہ دوسرے جنیوا اجلاس کو موثراور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ "جنیوا 2" میں شام میں پرامن انتقال اقتدار کے باقاعدہ فریم ورک کی ضمانت فراہم کی جائے اور تیس جون 2012ء کو ہوئے پہلے جنیوا اجلاس کی سفارشات کے مطابق شام میں با اختیارعبوری حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کی جائے۔

چیئرمین سعودی مجلس شوریٰ ڈاکٹرعبداللہ آل الشیخ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شام کی سالمیت اورخود مختاری کا حامی ہے۔ شام کے داخلی بحران اور شورش پر قابو پانے کے لیے سلامتی کونسل کی ذمہ داریاں سب سے بڑھ کر ہیں۔ عالمی ادارے کی تمام توجہ صرف کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ دمشق کے بحران کے سنگین مضمرات کو سامنے رکھتے ہوئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

ڈاکٹرعبداللہ آل الشیخ کا کہنا تھا کہ عرب۔ اسرائیل کشمکش خطے کو درپیش چیلنجزمیں سب سے بڑا چیلنج ہے۔ یہ چیلنج فلسطینی عوام کے حقوق سے جڑا ہے جنہیں اسرائیل نے فوجی طاقت کے بل بوتے پرغصب کر رکھا ہے۔ ایک طرف اسرائیل فلسطینی اراضی پرغاصبانہ قبضہ بڑھانے کے لیے یہودی توسیع پسندی کا مرتکب ہو رہا ہے اور دوسری جانب صہیونی فوج نہتے فلسطینی شہریوں کےخلاف ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی مظالم کے خاتمے، مقبوضہ عرب شہروں میں صہیونی توسیع پسندی کی روک تھام اور فلسطین کی آزادی کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔