.

طالبان سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی آپریشن!

مذاکرات کے ذریعے قیام امن حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی حامی ہے لیکن اگر یہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر فوجی آپریشن کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے جمعہ کو مقامی ٹیلی ویژن چینل جیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''ملک میں قیام امن کے لیے آج بھی مذاکرات حکومت کی اولین ترجیح ہیں لیکن اگر ان میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی اور یہ ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر ہم فوجی کارروائی کریں گے''۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جنوری میں پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے طالبان جنگجوؤں کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی اور اس مقصد کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔اس کمیٹی کے طالبان کی نامزد کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات میں ایک سو دس سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی ہفتے دارالحکومت اسلام آباد میں دہشت گردوں کے حملوں میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ ''اگر تشدد کا خاتمہ نہیں ہوتا تو پھر فوجی کارروائی شروع کی جائے گی لیکن ہم مذاکراتی عمل کو موقع دینا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد امن ہے،خونریزی نہیں لیکن دوسری جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر وہ (طالبان) مذاکرات کے عمل کو طول دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جنگجوؤں کی کارروائیاں بھی جاری رہتی ہیں تو پھر ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا''۔

حکومتِ پاکستان نے گذشتہ اتوار کو ملک کے شمالی مغربی پہاڑی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے روکنے کا اعلان کیا تھا اوریہ اقدام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔

تاہم وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ (طالبان کی جانب سے) تشدد کی کسی کارروائی کی صورت میں حکومت اور مسلح افواج کو مناسب ردعمل کا حق حاصل ہے۔

گذشتہ ماہ طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا شدہ تئیس فوجیوں کے بہیمانہ قتل کے بعد حکومت نے مذاکراتی عمل ختم کر دیا تھا اور اس کے بعد مسلح افواج نے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے تھے جن میں کم سے کم ایک سو جنگجو مارے گئے تھے۔

اب اسی ہفتے فریقین کی جانب سے جنگ بندی کے اعلانات کے بعد مذاکرات بحال ہوئے ہیں اور حکومت نے جمعرات کو طالبان کے مذاکرات کاروں سے بات چیت کے لیے نئی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔اس میں پاک فوج اور طاقتور خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائںدے بھی شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی اپنے فیصلوں میں بااختیار ہوگی۔ اس مجوزہ مذاکراتی کمیٹی میں فوج کے نمائںدوں کی شرکت پر بعض سیاسی لیڈروں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس سے پہلے جنوری میں میاں نواز شریف نے طالبان سے امن مذاکرات کے لیے اپنے قومی امور پرمشیراور معروف کالم نگار عرفان صدیقی، معروف تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی، سابق سفیر اور افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق اہلکار ریٹائرڈ میجر محمد عامر پر مشتمل کمیٹی قائم کی تھی۔اسی کمیٹی نے وزیر اعظم سے اپنی جگہ ایک نئی اور بااختیار کمیٹی کے قیام کی سفارش کی ہے۔