.

عدالتِ عظمیٰ سےانتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کی درخواست

وزیراعظم کی چیف جسٹس سے تین رکنی عدالتی کمیشن قائم کرنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے منگل کی شب قوم سے نشری تقریر میں عدالتِ عظمیٰ سے مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ''میں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک سے دھاندلیوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی ہے جو تحقیقات کے بعد اپنا فیصلہ دے''۔

وزیراعظم نے عدالت عظمیٰ سے یہ درخواست عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور علامہ طاہرالقادری کی عوامی تحریک کے چودہ اگست کو ملک کے یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد کی جانب مارچ کے ردعمل میں کی ہے۔ان دونوں جماعتوں کے کارکنان آزادی مارچ کی تیاریوں میں ہے جبکہ حکومت اس مارچ کو روکنے کے لیے سرکاری مشینری کو بروئے کار لارہی ہے۔

وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں ملک میں جاری احتجاج کی لہر اور احتجاجی مظاہروں سے متعلق سوال اٹھایا ہے اور نامعلوم ''افراد'' کو اس بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے۔انھوں نے سوال کیا کہ ''یہ لوگ ملک کو دہشت گردی اور تشدد کی جانب کیوں دھکیل رہے ہیں؟ اور رکاوٹیں کیوں کھڑی کررہے ہیں؟ان کے مقاصد کیا ہیں اور وہ یہ لانگ مارچ کیوں کررہے ہیں؟''

انھوں نے اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''اس نے 2002ء میں منعقدہ عام انتخابات میں حصہ لیا تھا جبکہ وہ خود جلاوطن تھے لیکن انھوں نے جمہوری کردار نبھایا۔انھوں نے کہا کہ 2008ء میں مجھے اور شہبازشریف کو نااہل قرار دے دیا گیا ،مجھے اسمبلی میں جگہ نہیں دی گئی لیکن میں نے دھاندلی کا کوئی شور نہیں مچایا تھا''۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملکی اور بین الاقوامی مبصرین نے گذشتہ سال منعقدہ عام انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ قرار دیا تھا اور کسی مقامی یا غیرملکی ادارے نے یہ نہیں کہا تھا کہ ان انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی یا ہارنے والے جیت رہے تھے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابی اصلاحات کی جائیں گی تاکہ آیندہ انتخابات زیادہ شفاف انداز میں منعقد کرائے جاسکیں۔

انھوں نے کہا کہ ''وہ پاکستان کے مفاد میں جاری بحران کے حل کے لیے بات چیت کو تیار ہیں''۔انھوں نے علامہ طاہرالقادری کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ ملک پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف لڑرہا ہے لیکن اب وہ کسی تیسرے فریق کو تشدد کی شہ دینے کی اجازت نہیں دے گا۔

عمران خان کا ردعمل

میاں نواز شریف کے اس خطاب سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے یہ عندیہ دیا تھا کہ سپریم کورٹ اگرگذشتہ عام انتخابات میں دھاندلیوں کی تحقیقات کے بعد اپنا صادر کرے تو وہ اس کو کو تسلیم کریں گے۔البتہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد ایک نیوزکانفرنس میں انھوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میاں نواز شریف مستعفی ہوجائیں کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے انصاف نہیں ہوگا اور عدالتی کمیشن آزادانہ طور پر انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات نہیں کرسکے گا۔

قبل ازیں عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ انھیں عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس ،جسٹس ناصر الملک پر مکمل اعتماد ہے۔اگر وہ اپنی سربراہی میں انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے بورڈ بنائیں تو وہ جو بھی فیصلہ کرے گا،وہ انھیں قبول ہوگا۔انھوں نے کہا کہ دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر ان میں ملوث افراد کا عدالت میں ٹرائل ہوتا ہے تو وہ تب ہی مطمئن ہوں گے''۔

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چودہ اگست کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کیا جائے گا۔انھوں نے اس چڑھائی کے حوالے سے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ''اگر انھیں روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر لڑائی ہوگی۔اگر پولیس نے انھیں روکا تو پھر تباہی ہوگی اور اس کے نتیجے میں اگر ملک میں مارشل لا لگ جاتا ہے تو اس کی ذمے دار حکومت ہوگی کیونکہ یہ اس کی غلطی ہوگی''۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے عمران خان کی کو گذشتہ روز باضابطہ طور پر آزادی مارچ کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عاید ہے۔

انتظامیہ کے اس فیصلے سے عیاں ہے کہ اگر عمران اور طاہرالقادری جمعرات کو اپنے ہزاروں کارکنان کے ساتھ اسلام آباد کا رُخ کرتے ہیں تو پھر ان کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے واضح امکانات ہیں اور لاشیں گرنے کی صورت میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔تاہم یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ عمران خان دباؤ کا شکار نواز حکومت سے اپنے مطالبات منوا کر آخری وقت میں اس مارچ کو ملتوی کرنے کا اعلان بھی کرسکتے ہیں۔درایں اثناء پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے اسلام آباد کی جانب مارچ سے قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے شہر کے بعض علاقوں میں موبائل فون سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔