.

انقلاب اور آزادی مارچ پارلیمان ہاؤس کے سامنے

انقلابی لیڈروں کا حکومت، اسمبلیاں تحلیل کرنے اور قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی اتحریک کے انقلاب اور آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد کے علاقے آب پارہ سے پیش قدمی کرتے ہوئے ریڈزون میں واقع پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے ہیں اور دونوں انقلابی لیڈروں نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے آج بدھ کی شام رات آٹھ بجے تک مستعفی ہونے کا مطالبہ دُہرایا ہے۔

پی ٹِی آئی اور پی اے ٹی کے ہزاروں کارکنان نے منگل کی نصف شب آب پارہ کے علاقے سے ریڈ زون کی جانب بڑھنا شروع کیا تھا۔وہاں تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کی کوئی مزاحمت نہیں کی اور وہ شاہراہوں پر رکھے کنٹینروں کو ہٹا کر اور خار دار آہنی تاروں کو کاٹ کر آگے بڑھتے رہے اور انھوں نے پارلیمینٹ کے سامنے اپنے اپنے اسٹیج سجا دیے ہیں اور ابتدائی جلسے کیے ہیں۔

علامہ طاہرالقادری نے شاہراہ دستور پر پارلیمنیٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں اپنے کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنا یہ مطالبہ دہُرایا ہے کہ شریف برادران مستعفی ہوجائیں،تمام اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں اور ان کی جگہ قومی اتحاد کی حکومت قائم کی جائے جو وسیع تر اصلاحات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلیاں غیرآئینی اور غیر قانونی ہیں اور ان کے وجود کا کوئی جواز نہیں ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکمرانوں نے عوام کے مفادات کی ضمانت دینے والی آئین کی تیس سے پینتیس دفعات معطل کررکھی ہیں۔وہ فوج کے خلاف رکیک زبان استعمال کرتے ہیں اور ان کے خلاف بھی آئین کی دفعہ چھے کے تحت انتہائی غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے ۔

وہ اپنے وفادار کارکنوں سے باربار یہ وعدے لے رہے تھے کہ وہ انقلاب کے مقاصد پورے ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔انھوں نے اپنے کارکنوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کی اور ان سے کہا کہ وہ ان عمارتوں میں داخل نہ ہوں،ان کے تقدس کو پامال نہ کریں۔

علامہ طاہرالقادری نے یہ بیان پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئِی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے اس ٹویٹ کے بعد جاری کیا تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ریڈزون میں واقع عمارتوں کا تحفظ آرمی کررہی ہے اور ان عمارتوں کے تقدس کا احترام کیا جائے۔انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ فریقین بامقصد مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آب پارہ سے پارلیمان ہاؤس تک سفر کے دوران اپنے ہزاروں کارکنان سے وقفے وقفے سے جذباتی انداز میں خطاب کیا۔انھوں نے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ بدھ کی رات آٹھ بجے تک مستعفی ہوجائیں۔اگر انھوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ان کے کارکنان وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کریں گے اورا س میں داخل ہوجائیں گے۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے لیڈروں کے ان تندوتیز بیانات کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور اسلام آباد میں ان دونوں کے مارچوں کو روکنے کے لیے چالیس ہزار سے زیادہ سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کےاستعمال سے گریز کیا ہے۔اس دوران امریکا اور برطانیہ کی جانب سے یہ بیانات سامنے آئے ہیں کہ پاکستان کے سیاست دان افہام وتفہیم اور مذاکرات کے ذریعے اس انداز میں مسائل حل کرنے کی کوشش کریں جس سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو۔