خیبر ایجنسی میں بمباری ،20 جنگجو ہلاک
پاک فوج کی لڑاکا طیاروں اور توپ خانے سے مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری
پاکستان آرمی نے افغان سرحد کے نزدیک واقع وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبرایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں کم سے کم بیس جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
پاک فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے اتوار کو خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑا میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔اس علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے علاوہ ایک اور کالعدم گروپ لشکراسلام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے علاوہ توپ خانے سے بھِی گولہ باری کی گئی ہے اور ان کے اسلحے اور گولہ بارود کی بھاری مقدار کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق تحصیل باڑا کے علاقوں سپاہ ،ملک دین خیل اور نالان سرکس میں مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان میں سے پانچ کو تباہ کردیا گیا ہے۔
پاک آرمی نے اسی ماہ کے آغاز میں آپریشن خیبر ون (خیبر اول) کے نام سے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔حال ہی میں تحصیل باڑا کے علاقے سپاہ میں سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ایک جھڑپ بھی ہوئی تھی۔اس فوجی کارروائی کا مقصد باڑا سے وادی تیراہ تک کے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرناہے۔اس کے بعد خیبرایجنسی میں دوسرے مرحلے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔
پاک فوج کے شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف جون سے جاری آپریشن ضربِ عضب کے بعد مشتبہ جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے راہ فرار اختیار کرچکی ہے۔انھوں نے خیبرایجنسی اور دوسرے علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنا لی ہیں اور وہیں سے وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بم حملے کررہے ہیں یا انھیں فائرنگ میں نشانہ بنا رہے ہیں۔
خیبرایجنسی پشاور سے ملحق ہے اور افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کے لیے سامان رسد بھی یہیں سے ٹرکوں کے ذریعے طورخم کی سرحد کی جانب لے جایا جاتا ہے اور یہیں سے شمال سے جنوب روٹ کے ذریعے تمام سات قبائلی ایجنسیوں کو ملانے والی شاہراہ گذرتی ہے۔اس علاقے میں ٹی ٹی پی کے علاوہ ،لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے اور ان کی آپس میں بھی آئے دن لڑائی ہوتی رہتی ہے۔