.

پاکستان اور بھارت جامع مذاکرات بحال کرنے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت نے تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے جامع مذاکرات کا عمل دوبارہ بحال کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بدھ کو اسلام آباد میں ملاقات کے دوران جامع مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے سے اتفاق کیا ہے۔اس ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

بیان کے مطابق دہشت گردی اورسیکورٹی سے متعلق امور پربنکاک میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان حالیہ بات چیت کامیاب رہی ہے اور انھوں نے دہشت گردی سے متعلق تمام امور پر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے سے اتفاق کیا تھا۔

بھارتی وزیر خارجہ کو یقین دلایا گیا ہے کہ ممبئی حملہ کیس کو جلد نمٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جامع مذاکرات کا عمل بحال کرنے کے لیے طریق کار اور شیڈول طے کریں۔

یہ نظام الاوقات طے ہونے کے بعد مجوزہ مذاکراتی عمل شروع ہوجائے گا اور اس کے دوران مختلف سطحوں پر امن وسلامتی سے متعلق ماور جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے ،سیاچن، سرکریک، وولر بیراج، تلبل نیوی گیشن پراجیکٹ ، اقتصادی و تجارتی تعاون ،انسداد دہشت گردی ، انسداد منشیات ، انسانی ایشوز ، عوامی سطح پر وفود کے تبادلے اور مذہبی سیاحت پر بات چیت کی جائے گی۔

بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ جامع مذاکرات میں وہ تمام امور شامل ہوں گے جن پر اس سے پہلے بات چیت ہوتی رہی ہے۔تاہم انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔

سشما سوراج اسلام آباد میں منعقدہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے آئی تھیں۔انھوں نے اس موقع پر وزیراعظم میاں نواز شریف سے بھی دوطرفہ امور پر بات چیت کی اور انھیں بتایا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی ستمبر 2016ء میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آئیں گے۔

درایں اثناء پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار احمد خان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سیریز کھیلنے سے انکار کے بعد پی سی بی کو پانچ ارب روپے کا نقصان ہوگا۔انھوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اب سیریز کے انتظامات کے لیے وقت نہیں رہا ہے اور بھارت میں ہونے والے آیندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے حکومت کی ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرخارجہ کے اسلام آباد کے دورے کے موقع پر کرکٹ تعلقات کی بحالی پربات نہ ہونا افسوس ناک ہے، ہمیں امید تھی کہ اب ماحول بہتر ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے کہا ہے کہ بھارت پڑوسی ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے لیکن سرحدوں پر لوگ مررہے ہوں تو ایسے ماحول میں پاکستان سے کرکٹ نہیں کھیل سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔اس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سیریز دسمبر میں ہونا تھی۔پہلے تو اس کے لیے میزبان ملک کا فیصلہ ہی نہیں ہوسکا تھا۔پھر دونوں ملکوں نے سری لنکا میں یہ سیریز کھیلنے سے اتفاق کیا تھا مگر اب بھارت نے انکار کردیا ہے۔