.

امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کی نئی قیادت سےجلد ملاقات کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی نئی قیادت سے جلد ملاقات کے منتظر ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے پاکستان پر اپنے اس الزام کا اعادہ کیا ہے کہ اس نے دشمن کو پناہ دے رکھی ہے۔

امریکی صدر نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں یہ ریمارکس دیے ہیں۔انھوں نے کانگریس سےامریکا کی میکسیکو کے ساتھ واقع سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب ڈالرز کی منظوری دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کانگریس کی جانب سے عدم منظوری کے بعد امریکی حکومت کا کاروبار جزوی طور پر معطل ہوچکا ہے۔

انھوں نے کانگریس کے ارکان کو مخاطب کرکے کہا کہ جب ہم دوسرے ممالک کو رقوم دے رہے ہیں تو اپنے ملک کو کیوں نہیں دے سکتے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے گوئٹے مالا ، ہونڈراس اور ایل سلواڈور کو رقوم دیں لیکن انھوں نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔اس مرحلے پر انھوں نے اپنے سامعین کو باور کرایا کہ انھوں نے ہی پاکستان کو فنڈز کی فراہمی روک دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہم پاکستان کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالرز سالانہ دیتے تھے لیکن میں نے یہ رقم دینا بند کردی ہے۔بہت سے لوگ اس معاملے کو نہیں جانتے ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ درست نہیں تھے۔

امریکی صدر نے گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھا تھا اور اس میں یہ واضح کیا تھا کہ وہ افغانستان میں پُرامن مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کے لیے پاکستان کی مدد کے خواہاں ہیں اور اس کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنے بے بنیاد الزامات کو دُہرانا نہیں بھولے تھے کہ وہ (پاکستانی) امریکا کے دشمن کا خیال رکھ رہے ہیں۔ہم اس کی بنیاد پر ایسا نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال یکم جنوری کو صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹویٹس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تنا ؤکا شکار ہیں۔ٹرمپ نے اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گذشتہ 15 سال کے دوران میں پاکستان کو اربوں ڈالرز امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔بعدازاں امریکی محکمہ خارجہ نے بھی پاکستان کو سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی امداد معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادیوں کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا تھا۔

گذشتہ سال نومبر میں ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ دیتے تھے، ہم پاکستان کو سپورٹ کر رہے تھے مگرالقاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن وہاں ملٹری اکیڈمی کے قریب آرام سے قیام پذیر تھا۔

امریکی صدر نے بعدازاں ٹویٹر پر بھی اسی قسم کے الزامات کا اعادہ کیا تھا۔اس پر پاکستان کی قیادت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کا''ریکارڈ درست'' کرتے ہوئے کہا کہ 'نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، مگر امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔