.

پاکستان اور بھارت میں کرتارپور راہداری سے یاتریوں کے ویزا فری داخلےکے لیے سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت نے کرتارپور راہداری سے سکھ یاتریوں کی ویزا فری آمد ورفت کے لیے ایک سمجھوتے پر دست خط کردیے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ چند ماہ سے تنازع کشمیر پر جاری کشیدگی کے بعد یہ پہلا سمجھوتا ہے۔اس کے تحت بھارت کی وزارت داخلہ کے جائنٹ سیکریٹری ایس سی ایل داس کے بہ قول ’’تمام عقیدوں سے تعلق رکھنے والے بھارتی یاتری اور بھارت نژاد افراد ویزا کے بغیر کرتار پور راہداری کے ذریعے سفر کر سکیں گے۔‘‘

انھوں نے بھارت کی جانب اس سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس پر دفتر خارجہ کے ترجمان اور جنوب ایشیا اور سارک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل نے دست خط کیے ہیں۔بعد انھوں نے کہا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے زائرین اور یاتریوں کو پاکستان میں اس راہداری سے خوش آمدید کہا جائے گا۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ یہ راہداری ہفتے میں سات دن صبح سے شام تک کھلے رہے گی۔ بھارت سے صبح سکھ یاتری کرتارپور میں دربار صاحب پر آئیں گے اوروہ شام کو واپس چلے جائیں گے۔ بھارت ان سکھ یاتریوں کی ان کی آمد سے دس روز قبل پاکستان کو فہرست فراہم کرے گا۔پاکستان کے امیگریشن حکام ان کے پاسپورٹ چیک کریں گے اور ان پر مہر نہیں لگائیں گے بلکہ انھیں صرف سکین کریں گے۔

اس سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار ہوئے تھے۔ان میں سکھ یاتریوں سے بیس ڈالرخدمات کی مد میں فیس کی وصولی پر اختلاف رہا ہے۔پاکستان ہر آنے والے یاتری سے یہ فیس وصول کرے گا۔ بھارت بادل نخواستہ اس شرط کو قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے اور اب پاکستان یاتریوں سے اس فیس کی وصولی کا طریق کار وضع کررہا ہے۔

کرتار پور راہداری کا باضابطہ افتتاح 12نومبر کو بابا گورونانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن سے قبل نو نومبر کو متوقع ہے۔دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں سکھ یہ دن مناتے ہیں اور ان میں کی ایک کثیر تعداد پاکستان کا رُخ کرتی ہے۔

اس راہداری کے افتتاح کے بعد کرتار پور میں واقع دربار صاحب اور بھارتی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا نانک کے درمیان براہ راست ویزا فری رابطہ استوار ہو جائے گا۔ بھارتی سکھ یاتری اپنےمذہب کے بانی بابا گورونانک کی آخری آرام گاہ گردوارے پر براہ راست جا سکیں گے۔یہ بھارتی سرحد سے صرف چار کلومیٹر دور پاکستان کے ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع ہے۔یہ سکھ مذہب کے پیروکاروں کا ایک مقدس مقام ہے۔ یہیں بابا گورونانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔