پرویز مشرف نے 40 سال ملک کی خدمت کی،وہ غدار نہیں ہوسکتے:ترجمان پاک فوج
خصوصی عدالت کے فیصلے پرافواجِ پاکستان میں سخت درد واضطراب پایا جاتاہے:سزائے موت کے حکم پر ردعمل
پاکستان کی مسلح افواج نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے میں قانونی عمل کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
منگل کے روز خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم دیا ہے اور انھیں آئین توڑنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ان کے خلاف پاکستان کے آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔اس کے تحت جو کوئی بھی آئین کو توڑنے کا مرتکب ہوگا،اس کی سزا موت ہے۔
اس فیصلے کے ردعمل میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل آصف غفور نے ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔انھوں نے کہاہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواج پاکستان کی صفوں میں سخت غیظ وغضب ،درد اور اضطراب پایا جاتاہے۔
انھوں نے باور کرایا ہے کہ ’’پرویز مشرف ملک کے صدر ،آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہے تھے۔انھوں نے 40 سال تک ملک کی خدمت کی ہے ،اس کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں،وہ یقینی طور پر غدار نہیں ہو سکتے۔‘‘
انھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت نے بادی النظر میں پرویز مشرف کے کیس میں قانونی عمل کے تقاضے پورے نہیں کیے ہیں۔اس مقدمے کی مخصوص انفرادی انداز میں سماعت کی گئی ہے اور اس کوعجلت میں نمٹایا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’سابق صدر کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔مسلح افواج یہ توقع کرتی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت انصاف کیا جائے گا۔‘‘