عمران خان کی تقاریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام ٹی وی چینلز پر سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی تقاریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

پیمرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 'عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے'۔

نوٹیفکیشن میں گزشتہ شب عمران خان کی ایف نائن پارک اسلام آباد میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں، ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف ان کے بیانات آرٹیکل 19 کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

نوٹیفکیشن میں تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عمران خان کی تقاریر اور خطاب براہ راست نشر نہ کریں تاہم ان کی ریکارڈ شدہ تقریر نشر کی جاسکتی ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ عمران خان کی ریکارڈ شدہ تقریر بھی ٹائم ڈیلے کے طریقہ کار کے تحت ہی دکھائی جاسکتی ہے تاکہ ان تقاریر کی مانیٹرنگ اور ایڈیٹوریل کنٹرول یقینی بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: خاتون مجسٹریٹ، آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد کے خلاف کیس کریں گے، عمران خان

واضح رہے کہ گزشتہ شب ایف نائن پارک اسلام آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے عدلیہ کو اپنی پارٹی کے ساتھ ’متعصبانہ رویے‘ پر خبردار کرتے ہوئے نتائج کے لیے تیار رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

وفاقی دارالحکومت میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 اور ایم پی او کی دفعہ 16 کے نفاذ کے باوجود شرکا کی بڑی تعداد عمران خان کی قیادت میں ریلی میں شرکت کے لیے نکلی۔

پی ٹی آئی کی ریلی زیرو پوائنٹ سے شروع ہو کر ایف نائن پارک پہنچی جہاں پارٹی قیادت اور ان کے اتحادی سابق وزیر شیخ رشید نے بھی شرکا سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر شہباز گل سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’شہباز گل کو اس طرح اٹھایا گیا جیسے وہ کوئی بہت بڑا غدار ہو، اسلام آباد کے آئی جی، ڈی آئی جی ہم نے آپ کو نہیں چھوڑنا، ہم آپ کے خلاف کیس کریں گے‘۔

انہوں نے خاتون مجسٹریٹ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’آپ کو معلوم تھا کہ شہباز گِل پر ظلم ہوا ہے اور پھر بھی آپ نے اسے ضمانت نہیں دی، مجسٹریٹ زیبا صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے اوپر بھی ہم ایکشن لیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان کے اوپر کیس کرنے لگے ہیں، اگر گل کے اوپر کیس ہوسکتا ہے تو یہ سارے فضل الرحمٰن، نوازشریف اور رانا ثنااللہ سب پر کیس کرنے لگے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گل کے ساتھ انہوں نے جو کیا، انہوں نے قانون کی بالادستی کی دھجیاں اڑا دیں، آج اپنے وکیلوں سے ملاقات کی ہے، آئی جی، ڈی آئی جی اور ریمانڈ دینے والی اس خاتون مجسٹریٹ پر کیس کریں گے۔

عمران خان کی اس تقریر کے بعد پیمرا نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر پی ٹی آئی کے سربراہ کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

اگرچہ پیمرا کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ نوٹیفکیشن تاحال پوسٹ نہیں کیا گیا ہے تاہم ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اس نوٹیفکیشن کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثنا مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم (پاکستان) اور جے یو آئی (ف) نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک خاتون جج کو دھمکیاں دینے اور پولیس افسران کو دھمکانے پر عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں