پاکستان میں سیلاب کے بعدلاکھوں افراد صحت کی دیکھ بھال سے محروم: ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے ایک تہائی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد لاکھوں افراد صحت کی دیکھ بھال تک رسائی سے محروم ہوگئے ہیں۔سیلاب سے ملک کی صحت کی قریباً 10 فی صد سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔

یہ بات عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹرتیدروس ادھانوم غیبریوسس نے منگل کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں قریباً10 فی صد مراکزِصحت اور سہولیات کو نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں افراد حفظانِ صحت کی سہولتوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ضروری ادویہ اور طبی سامان کا ذخیرہ محدود ہے یا بَہ گیا ہے، خراب سڑکیں اور پُل خدمات اور رسد تک رسائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں اوربیماریوں کی نگرانی اورریفرل میکانزم بھی بری طرح متاثر ہواہے‘‘۔

پاکستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ تخمینے کے مطابق حالیہ ہفتوں میں، شدید اور طویل مون سون کی وجہ سے پاکستان میں تین گنا زیادہ بارشیں ہوئیں، جس کی وجہ سے بڑے سیلاب آئے اور ان میں 551 بچوں سمیت 1500 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھرہوچکے ہیں اور کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔حکام نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ اگرچہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھڑے پانی میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے لیکن اسے مکمل طور پر کم ہونے میں دو سے چھے ماہ لگ سکتے ہیں۔

غیبریوسس نے یہ تبصرہ اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور(او سی ایچ اے) میں منگل کے روز پاکستان میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی صورت حال سے متعلق بریفنگ کے دوران کیا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ وہ خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں ہیضے، ملیریا اور ڈینگی بخار کے پھیلنے کے بارے میں فکرمند ہیں کیونکہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں یہ بیماریاں متاثرہ علاقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’پانی چڑھنا تو بند ہوچکا ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ ہم صحت عامہ کی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔اب ملیریا، ہیضہ اور ڈینگی کی وبا پھیل رہی ہے، جلد کے انفیکشن میں اضافہ ہوا ہے، اور ہمارا اندازہ ہے کہ ہر روز 2000 سے زیادہ خواتین بچوں کوجنم دے رہی ہیں اور ان میں سے زیادہ ترغیر محفوظ حالات میں زچگی کے عمل سے گزررہی ہیں‘‘۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ ان بیماریوں کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے،معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی معاونت اورشدید غذائی قلّت سے نمٹنے کے لیے "فوری اور مضبوط ردعمل اور پائیدار فنڈنگ کے ذریعے مدد دینے کی ضرورت ہے‘‘۔

انھوں نےکہا کہ جب ہم پاکستان میں ہنگامی صورت حال کا جواب دیتے ہیں،تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک ہم آب و ہوا کی تبدیلی کے وجود کے خطرے کو حل نہیں کرلیتے ہیں،تب تک ہم اس طرح کی ہنگامی صورت حال کا سامنا رہیں گے اورصورت حال اس سے بھی زیادہ بدترہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان سیلاب کی وجہ سے مسائل میں گھری ہوئی ہے اور اس کو ہماری معاونت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے عطیات دہندگان اور شراکت داروں پرزور دیا کہ وہ سیلاب سے تباہ حال ملک میں حکومت کی کوششوں کی معاونت کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں