انسداد پولیو مہم کے دوران بنوں سے موذی مرض کا تیسرا کیس رپورٹ

پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے انسداد پولیو کی جنگ جیتیں گے: انوار الحق کاکڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے پولیو وائرس کا ایک اور کیس رپورٹ ہوا ہے جس کے بعد رواں برس اب تک کیسز کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے خطرناک وائرس کے پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں پاکستان نیشنل پولیو لیبارٹری کے ایک عہدیدار کے مطابق متاثرہ بچی کی عمر 18 ماہ ہے، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے ہے جب کہ اس ضلع سے رواں سال رپورٹ ہونے والا یہ تیسرا کیس ہے۔

واضح رہے کہ یکم اگست کو بھی ضلع بنوں میں ہی پولیو کا دوسرا کیس رپورٹ ہوا تھا جہاں تین سالہ بچہ پولیو وائرس کی وجہ سے مفلوج ہو گیا تھا۔

اس سے قبل مارچ میں پاکستان میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس بھی اسی ضلع سے رپورٹ ہوا جہاں تین سالہ بچہ مستقل معذوری کا باعث بننے والے وائرس کا شکار ہوا۔

سال کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا کہنا تھا کہ جنوبی خیبرپختونخوا میں سات اضلاع ہیں، جن میں ڈیرہ اسمٰعیل خان، لکی مروت، ٹانک، بنوں، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان شامل ہیں، جہاں یہ وائرس موجود ہے، ان علاقوں میں ویکسی نیشن مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ علاقے 2022 میں بھی پولیو وائرس کا مرکز تھے، جہاں گذشتہ سال 20 کیسز جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے تھے، ان میں سے 17 متاثرہ بچوں کا تعلق شمالی وزیرستان، 2 کا تعلق لکی مروت اور ایک کا جنوبی وزیرستان سے تھا۔

اگست میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ جنوری 2021 سے اب تک تمام رپورٹ شدہ تمام کیسز کا تعلق جنوبی خیبر پختونخوا کے پولیو سے متاثرہ سات اضلاع سے تھا۔

یاد رہے کہ غیر ملکی وفود نے 2022 میں پولیو کےخاتمے کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے کی گئی پیش رفت کو سراہا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ سات اضلاع میں موجود پولیو وائرس کا خاتمہ جلد ممکن ہوگا۔

رواں برس جنوری میں کراچی کے بعد ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور سے دو الگ الگ مقامات سے ماحولیاتی نمونوں میں پہلی بار پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، اور مزید دو نمونوں میں پولیو کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد حکام نے شہر کی 26 یونین کونسلوں میں ویکسی نیشن مہم شروع کی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز پر پیر کے روز اسلام آباد میں ملک گیر انسداد پولیو مہم کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اس بات کی ضرور پر زور دیا کہ پولیو کا خاتمہ ہمارا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔ اس موذی مرض سے ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بچانا ہے، ملک کو پولیو سے پاک کرنے کے عزم کے ساتھ انسداد پولیو کی جنگ جیتیں گے، پولیو ورکرز ہمارےاصل ہیرو ہیں۔

انہوں نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر پانچ روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا۔ 5 سال تک کی عمر کے چار کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ قومی مہم میں ساڑھے تین لاکھ پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں جو ہمارے اصل ہیرو ہیں اور فرنٹ لائن ورکرز ہیں۔

وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ حکومت پولیو وائرس کے خاتمہ کے لیے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں مل کر جنگ لڑ رہی ہے اور اس موذی مرض سے ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بچانا ہے۔ یہ ہم سب کا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں