پاکستان ’جینڈر بانڈ‘ جاری کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے پہل کرتے ہوئے پاکستان نے جنوبی ایشیا کے پہلے ’جینڈر بانڈ‘ جاری کر دیے ہیں۔

ان 'جینڈر بانڈ' کا آغازتیس ہزار خواتین کو مائیکرو فنانس کی فراہمی کے لیے 2.5 ارب روپے اکٹھا کرنے کے لیے کیاگیا ہے جس سے زیادہ تر 2022 کے تباہ کن سیلاب کے متاثر ین مستفید ہو گے۔

خواتین کے لیے یہ بانڈکشف فاؤنڈیشن نے انفرازمین ( InfraZamin ) پاکستان کے اشتراک سے جاری کیا ہے، جو کہ انفراکو (InfraCo )، ایشیا انویسٹمنٹ اور کار انداز پاکستان کی مالی اعانت سے کریڈٹ بڑھانے کی سہولت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

جینڈر بانڈ کیلئے ڈھائی ارب روپےملک کی سٹاک مارکیٹ کے ذریعے اکٹھے کئے گئے ہیں ،جو کہ زیادہ تر 2022 کے سیلاب سے متاثرہ خواتین کو قرضوں کی فراہمی کے لیے استعمال کئے جائیں گے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں بانڈ کے اجراء کے موقع پراس پیش رفت کے بارے میں کشف فاؤنڈیشن کے چیف فنانشل آفیسر شہزاد اقبال نے عرب نیوز کو بتایا کہ بانڈ کو لانچ کرنے کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خواتین کو آسان شرائط پر قرض دینا ہے تاکہ وہ اپنی استعداد کار بڑھا کر مستقبل میں اپنے آپ کو ایسے خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔

اس بانڈ کا مالیت 2.5 ارب روپے ہے اسکی مدت تین سال ہے۔ یہ صرف خواتین کے لیے ہے اسی لیے اسے جینڈر بانڈ کا نام دیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ تین سال کی مدت میں ان کا قرض دینے والا ادارہ تقریباً 30,000 خواتین کو مائیکروفنانس کی سہولت ففراہم کرے گا۔

انفرا زمین کے ایک اہلکار کے مطابق بانڈ کے اجراء کا واحد مقصد خواتین کو چھوٹے کاروبار چلانے اور سیلاب سے متاثرہ گھروں کی بحالی کے لیے مالی طور پر مدد فراہم کرنا ہے۔

انفرازمین پاکستان کی چیف ایگزیکٹیو ماہین رحمان کہا کہ اس طرح کا مائیکرو فنانس کا ڈھانچہ بنا کر ہم نے خواتین کو مؤثر طریقے سے مالی طور پر مستحکم بنانے کی کوشش کی جس کے کے لیے جینڈر بونڈ ایک انتہائی موثر حل ثابت ہوسکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ دنیا میں کئی جینڈر بانڈہیں، لیکن یہ جنوبی ایشیا اور پاکستان میں یہ پہلا ایسا مالی انتظام ہے جسے خواتین کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

پاکستان کی نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اخترنے ویڈیو لنک کے ذریعے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جینڈر بانڈ کے آغاز کو ایک زبردست اقدام قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بانڈ صنفی فرق کو ختم کرنے اور خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔" ایک ایسے وقت میں جب محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، جینڈر بانڈز پاکستان کے اندر مثبت سماجی تبدیلی اور خواتین کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مائیکروفنانس کے انتظامات کے تحت قرض لینے والوں کو آسان شرائط اور طریقہ کار کے مطابق 60,000 روپے اور 500,000 روپے کے درمیان قرض لینے کی سہولت ہوگی ۔اس مقصد کیلئے قرض لینے والے کو کسی قسم کی دستاویزات یا ضمانت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہیں صرف اپنےکمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈکی ایک کاپی اور ایک تصویر فراہم کرنی ہوگی۔قرض کے اجرا عمل کو مکمل کرنے میں عموماً دو سے سات دن لگتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں