تاحیات نااہلی کیس: کیا کوئی شخص حلفاً اپنے کردار کو اچھا کہہ سکتا ہے: چیف جسٹس

اگر 2002 میں قائد اعظم زندہ ہوتے تو وہ بھی الیکشن لڑنے کے لئے نااہل قرار پاتے؛ مقدمے کی سماعت کے دوران قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نااہلی پانچ سال یا تاحیات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ’’کہ کیا کوئی بھی شخص حلفیہ طور پر کہہ سکتا ہے کہ اس کا کردار اچھا ہے، اگر 2002 میں قائد اعظم زندہ ہوتے توانہیں بھی الیکشن لڑنے کے لئے نااہل قراردے دیا جاتا۔‘‘

’’اسلام میں توبہ کی گنجائش آخری منٹ تک ہے، کسی کو تاحیات نااہل کردیا، ہوسکتا ہے بعد میں وہ حافظ بن گیا ہو، عالم بن گیا ہو۔ کیا ایسی پاورز زججز کے پاس ہونی چاہیں۔ ہمیں ہر وقت اراکین پارلیمنٹ پر تنقید نہیں کرنی چاہیئے وہ مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔‘‘

’’کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جس شخص نے آئین کی خلاف ورزی کی، حلف کی خلاف ورزی کی اسی نے ایسی دفعات آئین میں شامل کیں، جس فوجی آمر نے 1985 میں آئین کو روندا، اسی نے آرٹیکل 62اور 63 کو آئین میں شامل کیا۔ ہم کیس میں مخالف نقطہ نظر سننا چاہتے ہیں۔ پرویز مشرف نے 2002 کے انتخابات میں گریجویشن کی شرط رکھی۔‘‘

جبکہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ کیا سب قانون سازی آئین پر حاوی ہو سکتی ہے، کیا سمیع اللہ بلوچ کیس کے فیصلہ کو کالعدم قراردینے کے لئے آئین میں ترمیم نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ کیسے ایک عدالت یہ ڈکلیئریشن دے سکتی ہے کہ کوئی شخص سمجھدار اورعقل مند ہے کہ نہیں، 62-1(f)کے تحت ڈکلیئریشن کا مطلب کیا ہے، کیا سول کورٹ منفی ڈکلیئریشن دے سکتی ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اچھے کردارکا تعین کون کرے گا۔

جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ کیا شواہد ریکارڈ کئے بغیر ڈکلیئریشن دی جا سکتی ہے، صوبوں اور وفاق کے درمیان جھگڑوں کے حوالہ سے سپریم کورٹ ڈکلیریٹری ججمنٹ دے سکتی ہے، اس کے علاوہ کسی اور معاملہ میں نہیں دے سکتی۔ جبکہ اٹارنی جنرل، تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے آرٹیکل 62-1(f) کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال کرنے کے حوالہ سے پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017میں ترمیم کر کے شق 232(2)کے تحت پاس کردہ قانون سازی کی حمایت کی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور مس جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سات رکنی لارجر بینچ نے منگل کے روز آئین کے آرٹیکل 62-1(f)کے تحت تاحیات نااہلی کے حوالہ سے دائر 15درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل بیرسٹرمنصورعثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ انہوں نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کر دی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل! آپ کا موقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے۔ الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیوں کہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے۔

دوران سماعت میر بادشاہ خان قیصرانی کے خلاف درخواست گزارسردار امام قیصرانی کے وکیل محمد ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کردی۔ وکیل نے کہا کہ میں نے 2018 میں درخواست دائرکی جب62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا۔ اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کررہا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کو کیا کسی نے عدالت میں چیلنج کیا؟، جس پر درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ الیکشن ایکٹ کو کبھی بھی کسی کے عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی صوبائی حکومت ہے جو الیکشن ایکٹ 2017 کی مخالفت کرے، جس پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادنے عدالت میں مئوقف دیا کہ تمام صوبائی حکومتیں الیکشن ایکٹ 2017 کو سپورٹ کر رہی ہیں۔

اس موقع پراٹارنی جنرل نے آئین کا آرٹیکل 62،63 پڑھ کرسنا دیا۔ اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھ کر سنا دی۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کاغذات نامزدگی کے وقت سے 62 اور 63 دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں۔ انٹری پوائنٹ پر دونوں آرٹیکل لاگو ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ شقیں تو حقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں۔ کچھ شقیں مشکل ہیں جیسے اچھے کردار والی شق۔اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے۔ پتا نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کرسکیں گے؟۔الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی۔ جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا۔ عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے۔ اس لیے نااہلی کم ہے۔

عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن 62 ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم تو گناہ گارہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں۔ آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ عدالت نے دی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈکلیئریشن اپنی جگہ قائم ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ بھی تو لاگو ہوچکا اور اس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔

جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس موقع پر اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہو گی؟ آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ ہے، سنگین غداری کرے تو الیکشن لڑ سکتا ہے۔ سول کورٹ سے معمولی جرائم میں سزا یافتہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں رد و بدل ممکن ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟ کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانون سازی سے بدلا جا سکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل62 ون ایف میں نااہلی کی میعاد کا ذکرنہیں ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا جب تک عدالتی فیصلہ موجود ہے نااہلی تاحیات رہے گی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قتل اورملک سے غداری جیسے سنگین جرم میں آپ کچھ عرصے بعد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ معمولی وجوہات کی بنیاد پرتاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی؟۔ عدالت کسی شخص کے خلاف ڈکلیئریشن کیسے دے سکتی ہے؟

جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ نے ڈکلئیریشن ازخود اختیار استعمال کرکے دی؟چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون جی اور آرٹیکل 63 ون جی کی زبان ایک سی ہے۔ آرٹیکل 63 ون جی کے تحت ملکی سالمیت اور نظریے کی خلاف ورزی کرنے والے کی نااہلی پانچ سال ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر ایک شخص کے خلاف مقدمہ ہوتو وہ 2 سال سزا کاٹ کر واپس آ سکتا ہے۔ مگر ایک شخص کے خلاف مقدمہ نہ ہو بلکہ ڈکلیئریشن آ جائے تو وہ دوبارہ آہی نہیں سکتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کوئی شخص حلفیہ طورپر کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہے؟ اگر 2002 میں قائد اعظم ہوتے تو وہ بھی نااہل ہوتے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جب غیر منتحب لوگ قوانین بنائیں گے تو ایسے ہی ہوگا۔اس موقع پرسردار جہانگیرخان ترین کے وکیل مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے مئوقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت 5 سال مقرر کرنے کے حق میں ہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس فوجی آمر نے 1985 میں آئین کو روندا، اسی نے آرٹیکل 62 اور 63 کو آئین میں شامل کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62اور 63 پر پارلیمنٹ نے مہر لگائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کیسے آئین میں اہلیت کا معیار مقرر کرسکتا ہے؟۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف صوبوں کے مابین تنازعات پر ڈکلریٹو فیصلہ دے سکتی ہے اس کے علاوہ دیگر معاملات پر اس قسم کا فیصلہ نہیں دے سکتی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا ججز کو گھر بھیجنے والا، آئین شکنی کرنے والا اچھے کردار کا ہو سکتا ہے؟ کیا ضیاءالحق کو سب معاف ہے؟وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ ضیا کے بارے میں تو فیصلہ آخرت میں ہو گا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کیا آئین شکن کو سزا آخرت میں ہو گی؟ آپ کی رائے میں کیا ضیا سنگین غداری کا مرتکب ہوا؟ وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ میری رائے کچھ اور ہے، یہاں میں اس پر انحصار کروں گا جو اس عدالت نے نصرت بھٹو کیس میں قرار دیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے کہا کہ میری رائے میں اصل آئین اور بعد کی ترامیم میں تضاد ہو تو اصل پر انحصار کرنا چاہیے، میں منتخب نمائندوں کی قانون سازی پر انحصار کروں گا نا کہ ڈکٹیٹر کی، ایک مارشل لا ڈکٹیٹر کے خلاف الفاظ ادا کرنے میں اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ بڑے بڑے علما روزِ آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اچھے کردار کے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک طرف لکھا ہے کہ جھوٹ بول دیا تو پوری عمر کے لیے نااہل ہے، دوسری جانب قتل کر دیا، غداری کر دی تو بھی کچھ عرصے بعد واپس آ جائے گا؟چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی ٰنے کہا کہ ہم ایک بنیادی اصول قائم کرنا چاہتے ہیں، ذاتیات میں نہیں جائیں گے، فوجداری مقدمات میں عدالت کسی کو جھوٹا قرار دے تو اس پر آرٹیکل 62 ون ایف لگے گا؟ کل کوئی اعتراض کر دے گا کہ تم الیکشن نہیں لڑ سکتے، تمہیں عدالت نے جھوٹا قرار دیا ہے؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن بیرسٹر محمد شہزاد شوکت سول کیسز کے ماہر ہیں، ان سے رائے لیتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ شہزاد شوکت صاحب! آپ قانون کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت؟ صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے جواب دیا کہ میں قانون کی حمایت کرتا ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کر رہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں؟درخواست گزار کے وکیل شیخ عثمان کریم الدین روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے قانون نہیں آ سکتا۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے سوال کیا کہ آپ تاحیات نااہلی کے حق میں ہیں یا مخالفت میں؟

درخواست گزار کے وکیل عثمان کریم نے کہا کہ میں تاحیات نااہلی کے تب تک حق میں ہوں جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے وکلا سے سوال کیا کہ اور کون کون اس قانون کی مخالفت کرتا ہے؟سمیع اللہ بلوچ کے بھائی سابق سینیٹر ثنا اللہ بلوچ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میں متاثرہ فریق ہوں، میں سمیع اللہ بلوچ کا بھائی ہوں، میں عدالتی بالا دستی پر یقین رکھتا ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ یہ عدالتی بالا دستی کیا ہوتی ہے؟ میں نے آئینی بالا دستی کا تو سنا تھا۔ ثنا اللہ بلوچ نے جواب دیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 پچاس سال سے آئین میں موجود ہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ثنا اللہ بلوچ سے کہا کہ کیس کو چھوڑیں، آپ اپنی رائے بتائیں۔ ثنا اللہ بلوچ نے جواب دیا کہ کوئی انتخابی عمل کے انٹری پوائنٹ پر ہی جھوٹ بولے تو اس کی تاحیات نااہلی ہو گی۔

جسٹس امین نے سوال کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ 24 سال کا شخص انتخابات لڑنے کے لیے کہے کہ 25 سال کا ہے تو تاحیات نااہلی ہو گی؟ ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ 50 سال سے قانون میں اراکین کی اہلیت کا معیار طے ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر اس سے پہلے کوئی 62 ون ایف کے تحت نااہل کیوں نہ ہوا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جھوٹ بولنے پر سزا تاحیات ہے۔ قتل یا غداری پر سزا محدود ہے اور وہ الیکشن بھی لڑسکتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ18ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 62 اور 63 پر مہر لگائی گئی۔ جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے فیصلے میں آرٹیکل 62 اور 63 کو الگ الگ دیکھ کر غلط فیصلہ کیا۔اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے فیصلے میں سقم ہے۔ اب قانون کا اطلاق ہوگا۔

چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا آپ کیوں نااہل ہوئے؟۔ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ مس ڈیکلریشن کے سبب نااہلی ہوئی۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا پہلے مرحلے میں جو فیصلہ دیا، اسے دوسرے مرحلے میں بغیر وجہ بتائے تبدیل کر دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایک شخص کو ایک بار سزا مل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہو جاتی؟ ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ سزا کاٹ لینے کے بعد بھی کبھی انتخابات نہ لڑ سکے؟۔ آئین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہو گئی؟

چیف جسٹس نے کمرہ عدالت مین سینئر وکیل مخدوم علی خان کو روسٹرم پر بلا لیا، جہاں انہوں نے کہا کہ میں موجودہ کیس میں جہانگیز خان ترین کا وکیل ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں۔ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں؟، جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا۔ آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یعنی ضیاء الحق نے یہ کردار سے متعلق شقیں شامل کرائیں۔ کیا ضیاالحق کا اپنا کردار اچھا تھا؟ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کر آنے والے خود آئین توڑ دیں اور پھر یہ ترامیم کریں۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے ریمارکس میں کہا کہ اسلامی معیار کے مطابق تو کوئی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھہرایا نہیں جا سکتا، کیا آئین شکنی کرنے والا اچھے کردار کا ہو سکتا ہے؟

کیا ضیاء الحق کو سب معاف ہے؟چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حضورۖ نے فرمایا کہ اگر دریا کے کنارے پر بیٹھ کر وضو کرو تو بھی پانی ضائع نہ کرو، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ بھی اسراف کر رہا ہے۔ کیا کوئی شخص جو پاکستانی شہری نہیں اور بعد میں پاکستانی شہریت لیتا ہے تو کیا وہ عمر بھر الیکشن نہیں لڑسکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں، معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ایک شخص 20 سال بعد سدھر کر عالم بن جائے تو کیا اس کا کردار اچھا ہو جائے گا؟ اگر پہلے کسی نے ملک مخالف تقریر کر دی تو وہ آج بھی انتخابات نہیں لڑ سکتا؟

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ اگر کوئی شخص توبہ کر کے عالم یا حافظ بن جائے یا عالم بن جائے تو بھی برے کردار پر تاحیات نااہل رہے گا؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 18 ویں آئینی ترمیم میں ڈیکلیئریشن کا مقصد آر او کے فیصلے پر اپیل کا حق دینا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آرٹیکل 62 ون ڈی پڑھیں۔ اٹارنی جنرل نے پڑھ کر بتایا کہ 62 ون ڈی ہے کہ اچھے کردار کا مالک، اسلامی احکامات کی خلاف ورزی نہ کرے تو اہل ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ اچھا کردار کیا ہوتا ہے؟ ایک مسلمان صادق و امین کے الفاظ آخری نبیﷺ کے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا، اگر میں کاغذات جمع کراوں اور کوئی اعتراض کرے کہ یہ اچھے کردار کا نہیں تو مان لوں گا، ہم گناہ گار ہیں تبھی کوئی مرتا ہے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اگر کردار سے متعلق یہ تمام شرائط پہلے ہوتیں تو قائدِ اعظم بھی نااہل ہو جاتے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ ایک شخص کو ایک بار سزا مل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہو جاتی؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سزا کاٹ لینے کے بعد بھی کبھی انتخابات نہ لڑ سکے؟ آئین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہو گئی؟جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ13اپریل 2018 کو سمیع اللہ بلوچ کیس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت تاحیات مقرر کرنے والے جج نے فیصل واوڈا کیس میں اپنی رائے تبدیل کی۔

بعد ازاں کیس کی سماعت 4 جنوری ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ 11 جنوری تک کیس پر سماعت مکمل کر لیں گے۔ ہم اس کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کریں گے۔ اگر کوئی بھی سینئر وکیل عدالتی معاونت کرنا چاہے تو آئینی اور قانونی معاونت کرسکتا ہے تاہم سیاسی تقریریں نہیں سنیں گے۔ تمام وکلا ویڈیو لنک کے بجائے اسلام آباد میں پیش ہوں اور دلائل دیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فیصل صدیقی بھی عدالتی معاون ہو سکتے ہیں، سید قلب حسن، مولوی انوارالحق اور سابق اٹارنی جنرل بیرسٹر خالد جاوید خان بھی عدالتی معاون مقررہو سکتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان وکلاء سے رابطہ کر کے پوچھ لیں کہ اگر وہ اسلام آباد میں موجود ہیں اور شارٹ نوٹس پر عدالتی معاونت کر سکتے ہیں تو کریں۔ اگر ثناء اللہ بلوچ کوئی وکیل کرنا چاہیں تو وہ وکیل کر سکتے ہیں۔ مخالف رائے رکھنے والے وکلاء بیرسٹر خرم رضا، شیخ عثمان کریم الدین اور اصغر سبزواری چار جنوری کو دلائل دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں