اولین پاکستانی آن لائن گولڈ ٹریڈنگ کمپنی کا 5 سالوں میں 8 بلین ڈالر کی آمدنی کا ہدف

ملک میں سونے کی تجارت باضابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکس چوری اور چور بازاری ہوتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سونے کی آن لائن اور فزیکل خرید و فروخت کے لیے پہلی باضابطہ پاکستانی کمپنی کا منگل کو کراچی میں افتتاح کیا گیا جس کا مقصد پانچ سالوں میں قومی خزانے کے لیے تقریباً 2.5 ٹریلین روپے (8 بلین ڈالر) کی آمدنی حاصل کرنا ہے۔

پاکستان میں سونے کی خرید و فروخت مکمل طور پر ریگولیٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے قیاس آرائی پر مبنی تجارت، انڈر اینڈ اوور انوائسنگ، ٹیکس چوری اور چور بازاری ہوتی ہے۔

زکریا گولڈ کموڈٹیز کے چیئرمین محمد شاہد زکریا نے کمپنی کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خرید و فروخت کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے گا اور اس عمل کو ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔

"ہم پورے پاکستان میں 2,300 گولڈ لیبز اور 820 فرنچائزز قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ہمارا حساب کتاب بتاتا ہے کہ اس مارکیٹ سے پانچ سالوں میں 2500 ارب روپے کمائے جا سکتے ہیں۔"

ہماری کمپنی پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج کمپنی کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر سنٹرلائزڈ سونے کے نرخ جاری کرے گی جیسا کہ مختلف تجارتی اداروں کی جانب سے نرخ جاری کرنے کا موجودہ عمل ہوتا ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پی ایم ای ایکس نے اس قیام کی منظوری دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں