ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا

جسٹس (ر) تصدق جیلانی وزیر اعظم کے نام اپنے خط میں یہ کہہ کر انکوائری کمیشن سے علاحدہ ہوئے ہیں کہ ججوں کا خط سپریم جوڈیشل کونسل کے نام تھا لہذا اس کی انکوائری بھی اسی فورم پر ہونا چاہیے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کا ازخود نوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کی جانب سے عدالتی امور میں مبینہ مداخلت سے متعلق خط پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ازخود نوٹس لے لیا۔

یاد رہے کہ حکومت اس معاملے پر چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی پر مبنی ایک رکن انکوائری کمیشن تشکیل دے چکی تھی تاہم گذشتہ روز 300 سے زائد وکلا نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر از خود نوٹس لیں۔

وکلاء کا مطالبہ تھا کہ چیف جسٹس آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت ازخود نوٹس لیں جو عوامی مفادات کے متعلق ہے۔

ججز کے خط کے معاملے پر چیف جسٹس نے اسلام آباد کی پرنسپل سیٹ پر موجود ججوں پر مشتمل سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، سات رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کریں گے۔

اس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، یحییٰ خان آفریدی، جمال خان مندخیل، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی لارجر بینچ میں شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ ججز کے خط کے معاملے کی سماعت بدھ کو ساڑھے 11 بجے کرے گا۔

واضح رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے ججز کے کام میں خفیہ ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت اور دباؤ میں لانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس سمن رفت امتیاز کی جانب سے لکھا گیا۔

خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ ہم جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو انڈر مائن کرنے والے کون تھے؟

اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے ججز کا فل کورٹ اجلاس طلب کیا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی، جہاں دونوں نے کابینہ کی منظوری کے بعد عدالتی امور میں مداخلت کے خدشات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی پر مشتمل کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دی گئی تھی۔

تصدق جیلانی کمیشن سے علاحدہ

ادھر دوسری جانب جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے خط میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے نام پیر کو ایک خط میں جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ اسلام آباد ہوئی کورٹ کے چھ ججوں کا خط جوڈیشل کمیشن کے نام تھا اور اس لیے یہ معاملہ اسی فورم پر اٹھایا جانا چاہیے۔

جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی نے خط میں مزید کہا کہ اگرچہ ہائی کورٹ ججوں کا خط پوری طرح آئین کے آرٹیکل 209 کا بھی نہیں بنتا اس لیے چیف جسٹس ادارہ جاتی سطح پر اس معاملے کو بہتر حل کر سکتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا: ’ججوں کے خط میں آئینی مشاورت کا کہا گیا ہے۔ لہذا میں کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرتا ہوں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں