پاکستان کی عدالت نے افغان موسیقاروں کی وطن واپسی دو ماہ کے لیے روک دی
سیاسی پناہ کے مقدمات کے فیصلے اور درخواست گذاروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم
ایک پاکستانی عدالت نے جمعہ کے روز ایک مختصر حکم جاری کیا جس میں تقریباً 150 افغان گلوکاروں اور موسیقاروں کی جبری وطن واپسی روک دی گئی اور وفاقی حکام کو دو ماہ کے اندر ان کی حیثیت کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ افراد طالبان کی 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد اپنے ملک سے بھاگ کر پاکستان آگئے تھے۔
اپنے آبائی ملک میں ظلم و ستم کے خوف سے موسیقاروں نے گذشتہ سال سیاسی پناہ کی درخواست دائر کی تھی جس پر پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) نے یہ حکم جاری کیا۔
طالبان نے 1996 سے 2001 تک اپنے پہلے دورِ اقتدار کے دوران موسیقی پر سخت پابندی عائد کر دی تھی جو موسیقارانہ اظہار کو دبانے اور پورے افغانستان میں فنکاروں پر ظلم کرنےکا باعث بنی۔
جسٹس وقار احمد پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے دو صفحات پر مشتمل مختصر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے موسیقاروں کی درخواست منظور کر لی اور حکومت کو انہیں زبردستی افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا۔
پی ایچ سی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ "وفاقی حکومت یا اس کا متعلقہ افسر ان تمام درخواست گذاروں کو سیاسی پناہ دینے یا نہ دینے کے مقدمات کا فیصلہ دو ماہ کے اندر کرے گا۔"
اس میں مزید کہا گیا، "حتمی فیصلے تک ان درخواست گذاروں کو پاکستان کی سرزمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں پاکستان چھوڑ کر اپنے آبائی ملک افغانستان واپس جانے پر مجبور کیا جائے گا۔"
پاکستان میں افغان شہری 2023 سے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں جب حکومت نے ملک میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف ملک بدری کی ایک بڑی مہم شروع کی تھی۔ دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافے کے بعد اس مہم میں بنیادی طور پر افغانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حکومت نے الزام لگایا کہ ان میں سے کئی افغان پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔
کابل میں افغان حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شہری پاکستان کے سکیورٹی مسائل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکام 60 دنوں میں مقدمات کا فیصلہ نہ کر پائیں تو وزارتِ داخلہ کے سیکرٹری درخواست گذاروں کو اتنی مدت تک رہنے کی اجازت جاری کریں جو حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے کافی ہو۔
نیز کہا گیا، "اگر وفاقی حکومت 60 دن یا اس سے زیادہ مدت کے لیے درخواست گذاروں کو پاکستان میں قیام کی اجازت دے دے تو وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کے خلاف کوئی منفی کارروائی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔"
افغان موسیقاروں نے عدالتی حکم کو "امید کی کرن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھی شہریوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن نے ان کی کمیونٹی میں صدمے کی لہر دوڑا دی ہے۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک موسیقار زرولی افغان نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم خوف زدہ تھے لیکن عدالت کے حالیہ فیصلے سے ہماری کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت انسانی بنیادوں پر ہمارے مقدمات پر غور کرے گی۔"
افغان طالبان کا عقیدہ ہے کہ موسیقی اسلام میں حرام ہے حالانکہ مذہب کے اندر کئی مکاتب فکر ان سے مختلف تشریح بیان کرتے ہیں۔
گذشتہ سال پاکستان اور ایران میں افغان سفارت کاروں نے سرکاری تقریبات میں قومی ترانے بجانے کے دوران احتراماً کھڑے ہونے سے گریز کیا تھا جس کے بعد کابل میں حکام کو اپنا مؤقف واضح کرنا پڑا۔
اس واقعے کو دونوں ممالک نے توہین آمیز اور سفارتی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ تاہم، افغان طالبان نے وضاحت کی کہ ان کے نمائندوں کا مقصد دل آزاری کرنا نہیں تھا اور اگر قومی ترانہ پسِ منظر کی موسیقی کے بغیر بجائے جاتے تو وہ کھڑے ہوتے۔
عرب نیوز نے عدالتی حکم پر وزارتِ داخلہ سے تبصرے کی درخواست کی تاہم اس کے ترجمان نے کوئی جواب نہیں دیا۔