اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کا اعتراف مسترد: پاکستان ، اسلامی ممالک کا ہمنوا
اقدام "بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی" قرار
پاکستان نے اتوار کے روز اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے افریقی خطہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان نے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اسرائیل نے اس ہفتے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا جس پر صومالیہ نے مذمت اور علاقائی اداروں نے تنقید کی۔ یہ خود ساختہ خطہ 1991 میں صومالیہ سے الگ ہو گیا تھا لیکن قبل ازیں اقوامِ متحدہ کے کسی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا، "پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت اور اس سلسلے میں اسرائیل کی طرف سے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے نام نہاد خطے صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان مسترد کرتا ہے۔"
نیز کہا، "اس طرح کے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور نہ صرف برادر ملک صومالیہ بلکہ پورے خطے کے امن واستحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کو ایسی کسی بھی کارروائی کو مسترد کرنے کے لیے قدم بڑھانا چاہیے اور اسرائیل کو وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے سے روکنا چاہیے۔"
بیان میں اس معاملے کو شرقِ اوسط کے وسیع تر تنازعات سے بھی ملایا گیا اور پاکستان نے فلسطینیوں کی جبری نقلِ مکانی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کا اعادہ کیا۔
اس معاملے پر دفترِ خارجہ کا حوالہ اس سال مارچ میں ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے تناظر میں آیا جن کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے مشرقی افریقی ریاستوں بشمول صومالی لینڈ سے رابطہ کیا تھا کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کو اپنے ہاں لے لیں۔
فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا، "پاکستان کسی بھی اقدام کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے جو کسی بھی صورت میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبراً بے دخل کرنے کے لیے ہو۔"
صومالیہ کی حکومت نے کہا ہے کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے جبکہ افریقی یونین نے برِاعظم کے منقطع علاقوں کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعہ کو کہا کہ ان کے ملک نے صومالی لینڈ کو "ابراہم معاہدے کی روح کے مطابق" تسلیم کیا۔ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے سے اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے میں مدد ملی تھی۔
اس کے علاوہ ہفتے کے روز جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزراء نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی جس کا اعلان 26 دسمبر کو کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے "قرنِ افریقہ اور بحیرۂ احمر کے خطے میں امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے" اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو نقصان پہنچے گا، اردنی نیوز ایجنسی (جے این اے) نے اطلاع دی۔
مشترکہ بیان مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائیجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، صومالیہ، سوڈان، ترکی اور یمن کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ نے جاری کیا۔
جے این اے نے مزید کہا کہ مشترکہ بیان میں اس اعتراف کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بے مثال اور صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے جو ریاستی خود مختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کو برقرار رکھتا ہے۔
اس نے خبردار کیا کہ ریاستوں کے حصوں کی آزادی کو تسلیم کرنے سے ایک خطرناک مثال قائم ہوتی ہے اور یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرناک ہے۔
بیان میں اس اقدام کی واضح مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ ایسی تجاویز کو "ظاہری و باطنی" ہر صورت میں مسترد کیا جاتا ہے۔