پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کا طول پکڑنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان جنوبی ایران میں امریکی افواج کی جانب سے کشتیوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے موجودہ بحران کے مستقل حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے حقیقی سفارتی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں اور ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ دنیا مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے خاتمے کی منتظر ہے اور ہمیں اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران توانائی کی فراہمی کی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرہ بن رہا ہے، اس لیے اس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے امریکی عسکری سرگرمیوں کا مقابلہ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کا پورا حق رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق انہوں نے ایک امریکی آر کیو-4 ڈرون طیارے اور ایک ایف-35 فائٹر جیٹ پر فائرنگ کی، جبکہ ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون طیارے کی نقل و حرکت کی بھی نگرانی کی گئی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے جنوبی ایران میں میزائل کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں اور آبنائے ہرمز کے قریب ان کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں مائنز (بارودی سرنگیں) بچھا رہی تھیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں حالیہ امریکی حملوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ برقرار رہا۔ یہ اس بات کا واشگاف اشارہ ہے کہ دونوں فریق اب بھی کشیدگی کو کم کرنے کے راستے پر قائم ہیں اور موجودہ روابط کو منقطع نہیں ہونے دینا چاہتے۔
اخبار کے مطابق ایرانی عہدیدار قالیباف جنگ کے خاتمے کے منصوبے سے متعلق بات چیت کو مکمل کرنے کے لیے دوسرے روز بھی دوحہ میں موجود رہے، جہاں قطر اور دیگر عرب ممالک کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے تاکہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے اور اس بحران کو ایک وسیع تر تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے جو عالمی توانائی کی مارکیٹ کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز ان مذاکرات کا ایک انتہائی اہم ترین حصہ ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی گزرگاہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ گذشتہ ہفتوں کے دوران اس آبی راستے کی جزوی بندش نے تیل کی منڈیوں اور بحری جہاز رانی کے شعبے میں شدید ہیجان پیدا کر دیا تھا۔