پاکستانی فوج نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ بلوچستان میں دو الگ الگ کارروائیوں میں کم از کم آٹھ دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خاران اور مستونگ اضلاع میں تازہ ترین کارروائیاں کیں۔
خاران میں تین دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ مستونگ کارروائی میں ایک خودکش بمبار سمیت پانچ کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ 'ہتھیار، گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور اُن دہشت گردوں کے زیرِ استعمال موٹر سائیکلیں بھی برآمد ہوئیں'۔
نیز کہا، "علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے بھارتی سپانسر شدہ دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے صفائی کی کارروائیاں جاری ہیں۔"
نئی دہلی نے اس بیان پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔
بلوچستان میں حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں غیر ملکیوں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، سکیورٹی فورسز، پولیس اور غیر مقامی پاکستانیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ گذشتہ ماہ ایک مسافر ٹرین پر ایک خودکش بم حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔