.

لبنان، سعودی عرب، داعش اور حزب اللہ

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے اسی ہفتے لبنانی فوج کو دی جانے والی ایک ارب ڈالرز کی اضافی امداد تحفہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سیاسی اقدام ہے جس کا مقصد لبنان اور اس کے آس پاس جاری شورش کا خاتمہ ہے۔

سعودی عرب یہ مالی امداد لبنان میں ایک سنی ملیشیا کی تشکیل کے لیے بھی مہیا کر سکتا تھا اور ایسا کرنے کے لیے اس کے پاس بہت سی وجوہ تھیں۔ ان میں سے ایک شیعہ حزب اللہ اور بشارالاسد کی انٹیلی جنس فورسز کے خلاف سد جارحیت کے لیے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی امداد بھی ہو سکتی تھی۔

لیکن اس کے بجائے سعودی عرب نے لبنان میں فوج کی امداد کا انتخاب کیا ہے۔ لبنان ایسا ملک ہے جہاں مسیحی، دروز اور شیعہ ملیشیائیں ہیں۔ تو پھر سعودی عرب نے فوج ہی کی حمایت کا کیوں فیصلہ کیا ہے اور احمد العسیر،خالد الداہر یا عدنان امامہ اور دوسرے سُنیوں کی امداد کیوں نہیں کی جو خود بھی عطیات دینے والوں کی تلاش میں ہیں؟ یہ سعودی عرب کے مفاد میں نہیں تھا کہ وہ لبنان کو ایسی صورت حال سے دوچار کر دے جہاں فرقوں کی بنیاد پر قائم ملیشیائیں خطے کے ممالک کی جانب سے ایک دوسرے سے متصادم
ہوں۔یہ لبنان کے اہلِ سُنت اور اہلِ تشیع کے بھی مفاد میں نہیں ہے کہ ان کی ریاست کے خلاف بغاوت اور ہتھیار بند ہونے کے لیے حمایت کی جائے۔

قتل وغارت اور سیاسی اتھل پتھل کے باوجود لبنان کی رائے عامہ ہتھیار اٹھانے کے خلاف ہے۔خاص طور پر 1970ء کے عشرے میں پھوٹ پڑنے والی تباہ کن خانہ جنگی کے بعد تو وہ بالکل بھی ایسا نہیں چاہتی ہے۔ اس لیے لبنانی ریاست اور اس کے عسکری ادارے کی حمایت کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ فوج اہلِ سُنت اور ملک کے دوسرے فرقوں اور دھڑوں کے تحفظ کے لیے اپنے فرائض پورے کر سکے۔

اب ہم اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ حزب اللہ کے پاس بہتر ہتھیار ہیں اور وہ گذشتہ تیس سال سے زیادہ عرصے سے ایک جنگی قوت ہے لیکن اس کے باوجود وہ قانونی جواز حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے حالانکہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک مزاحمتی گروپ ہے اور لبنان کی سرحدوں کی محافظ ہے۔

یہ بات متوقع تھی کہ لبنانی آرمی کی حمایت اور اس کو مضبوط بنانے سے حزب اللہ ایسے گروہ ناراض ہوں گے۔حزب اللہ سُنی ملیشیاؤں کی تشکیل کو ترجیح دیتی ہے تاکہ وہ ایک مسلح شیعہ ملیشیا کے طور پر اپنے وجود کا جواز پیش کرسکے۔وہ اس منظرنامے کو لبنانی فوج کو مضبوط بنانے پر ترجیح دیتی ہے کیونکہ اس سے اس کے وجود کا جواز برآمد ہوسکتا ہے۔

ملیشیاؤں کے خلاف موقف

سعودی عرب نے ملیشیاؤں کی حمایت کے تصور ہی کے خلاف فیصلہ کیا ہے خواہ یہ لبنان یا دوسرے ممالک میں سنی یا شیعہ ملیشائیں ہوں۔ اس کے نزدیک ریاست کو مضبوط بنانا ہی ایک درست آپشن ہوسکتا ہے اور یہ صرف لبنانی عوام کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ خطے کے تمام ممالک کے لیے ہے جو سکیورٹی کے قیام کے لیے مشوش ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے جائز اداروں کے خلاف قدم نہ اٹھانے کے فیصلے کے ردعمل میں بشارالاسد اور ایرانی رجیم 1980ء کے عشرے سے مذہبی سُنی لیڈر ایجاد کر رہے ہیں تاکہ وہ سول سُنی قیادت کا مقابلہ کر سکیں اور کرامی، صلحی اور حریری جیسے لیڈروں کی اتھارٹی کو ہائی جیک کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ لبنان کے سُنی مفتی محمد رشید قبانی کو سُنیوں ہی نے مسترد کر دیا ہے کیونکہ وہ ان کو اسد رجیم کا ایک ملازم خیال کرتے ہیں۔

لبنان کی صورت حال فلسطین کی صورت حال کے مشابہ ہے کیونکہ فلسطینی جماعتوں فتح الاسلام ،حماس اور اسلامی جہاد کے ایرانی اور شامی حکومتوں سے روابط ہیں۔ چنانچہ لبنانی فوج کو مضبوط بنانے کا مطلب حزب اللہ کی لبنان میں بالادستی اور اس ملک کو ایران کی ایک امارت میں تبدیل کرنے کی سکیم کو کمزور کرنا ہے۔اس سے لبنانی سنی دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے جو شام سے حزب اللہ کا پیچھا کرتے ہوئے لبنان میں دراندازی کررہی ہیں اور ان میں بلی اور چوہے کا کھیل جاری ہے۔

(سرحدی قصبے) عرسال میں رونما ہونے والے واقعات نے ایک مضبوط فوج کی اہمیت کو ثابت کر دیا ہے جو حزب اللہ کی مداخلت کو روک سکے کیونکہ وہ لبنانی فوج کے پرچم تلے شامی گروپوں کے ساتھ لڑنا چاہتی ہے۔ نہرالبارد کے پناہ گزین کیمپ سے عرسال میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات تک ریاستی سطح پر عسکری چیلنجز نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ حزب اللہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور لبنانی عوام بھی اپنی سکیورٹی کے دفاع کے لیے فوج کے سوا کسی اور پارٹی کو قبول نہیں کریں گے۔

تاہم لبنانی فوج کو مضبوط بنانا حزب اللہ یا دوسری ملیشیاؤں سے تحفظ کا وعدہ نہیں ہے کیونکہ یہ مقصد مستقبل قریب میں حاصل ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے بلکہ اس کا ایک مقصد حزب اللہ کو شامی فوج کا کردار ادا کرنے سے روکنا ہے حالانکہ شامی فوج کو نوسال قبل رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت لبنان سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

ایک مضبوط لبنانی فوج یاتو ملیشیاؤں کی موجودگی کےاس جواز کو کمزور کرے گی کہ ان کا ملک میں وجود ہونا چاہیے یا وہ ان کی سرگرمی کو محدود کرے گی۔اس صورت میں حزب اللہ ایک شیعہ مسئلہ بن جائے گی اور اس کو حل کرنا لبنان کے شیعوں ہی پر منحصر رہ جائے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.