اسرائیل کی فلسطینی اتھارٹی کو مسلسل کمزور کرنے اور حماس کوتقویت دینے کی حکمتِ عملی

ڈیوڈ پاول
ڈیوڈ پاول
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

تین اور چارجولائی کو اسرائیلی فوج کے غربِ اردن میں جنین پناہ گزین کیمپ میں بڑے حملے کے بعد ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ’’یہ آپریشن "مساوات میں تبدیلی" کی علامت ہے۔مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے چھوٹے پیمانے پر چھاپوں کے بجائے، جس میں فلسطینی شہری اکثر ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں، فوج جنین میں مختلف مسلح گروہوں کے قائم کیے گئے ہتھیاروں کے ذخیروں، بم بنانے کی فیکٹریوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے کام کرے گی‘‘۔

نیتن یاہو نے اسے کھیل کا پانسا پلٹنے والی حکمت عملی قرار دیا جو مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں یا شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو جنین یا کسی دوسرے شہر کو اڈے کے طور پر استعمال کرنے سے روکے گی لیکن حقیقت میں حکمت عملی میں اس تبدیلی کا تشدد اور انسداد تشدد کے چکر پر قابل ستائش اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔یہ بنیادی مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں کرتی ہے۔فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کی ناکامی یا تو سلامتی کو نافذ کرنے یا فلسطینیوں کی نظر میں اس کی اپنی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے میں ناکامی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے فوری طور پر جنین آپریشن کو "جنگی جرم" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون واپس لینے کی دھمکی دی تھی۔ بعدازاں فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں جنین کا پہلا دورہ کیا اور کیمپ کی تعمیرِنو کا وعدہ کیا۔اسے انھوں نے "جدوجہد کی علامت" قرار دیا۔

لیکن فلسطینیوں نے پہلے بھی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بارے میں پی اے کی طرف سے اس طرح کی مذمت دیکھی ہے اور اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون ختم کرنے کی ماضی کی دھمکیوں کو یا تو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا یا پھر تیزی سے تبدیل کیا گیا ہے، عام طور پر امریکا کے دباؤ میں، جو اس طرح کے تعاون کی کمی کو عدم استحکام کے عنصر کے طور پر دیکھتا ہے اور ایسا کوئی اقدام بنیاد پرست مسلح گروہوں کو بااختیار بناتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس جنین کا دورہ کررہے ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس جنین کا دورہ کررہے ہیں۔

جنین جیسے مغربی کنارے کے شہروں میں اسرائیلی فوج کی ہرچھاپا مار کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ پی اے نہ تو وہاں پھلنے پھولنے والے مسلح گروہوں کو کنٹرول کر سکتی ہے، اور نہ ہی ان گروہوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو روک سکتی ہے یا مؤثرطریقے سے جواب دے سکتی ہے۔ غرب اردن کے شہر اور قصبے برائے نام فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہے۔مگر وہاں رائے عامہ کے جائزے بار بار پی اے کے لیے عوامی حمایت میں مسلسل کمی ظاہر کرتے ہیں۔فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ کے مارچ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق مغربی کنارے اور غزہ کی اکثریت اب یہ سمجھتی ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کو مکمل طور پر تحلیل کردیا جاتا ہے تو یہ ان کے مفاد میں ہوگا جبکہ 57 فی صد کا خیال ہے کہ اس کا وجود صرف اسرائیل کے مفادات کے لیے ہے۔

اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ پی اے کے خاتمے کے نتیجے میں مغربی کنارے کے ان علاقوں میں طاقت کا خطرناک خلا پیدا ہو جائے گا حالانکہ یہ برائے نام پی اے کے سکیورٹی کنٹرول میں ہیں۔ درحقیقت، ان علاقوں میں حماس کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس کی حکمت عملی مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ غزہ میں پی اے کو تبدیل کرنا ہے، جہاں حماس نے 2007 میں پرتشدد طریقے سے فلسطینی اتھارٹی کے تحت فورسز کو بے دخل کردیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس طرح کے انتباہ کا سیاست دانوں پر کچھ اثر پڑ رہا ہے۔ نیتن یاہو نے جنین میں تازہ فوجی آپریشن سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کو کام جاری رکھنے کے لیے پی اے کی ضرورت ہے اور وہ معاشی طور پر اس کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ جنین آپریشن کے بعد، اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے سفری پابندیوں میں نرمی اور فلسطینی معیشت کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، جس میں الخلیل کے قریب واقع شہر ترقومیا میں ایک نئے صنعتی زون کے قیام کے منصوبے پر آگے بڑھنا بھی شامل ہے لیکن پی اے اور اسرائیلی حکومت کے درمیان اعتماد اور مکالمے کی کمی کی وجہ سے اس طرح کے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں۔ مشترکہ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے اوسلو معاہدے کے تحت قائم کی گئی اسرائیل فلسطین مشترکہ اقتصادی کمیٹی (جے ای سی) کا 2009 کے بعد سے کوئی اجلاس نہیں ہوا ہے۔جون میں ، صدر عباس نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے بستیوں کی تعمیر کی منظوری کو آسان بنانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر جے ای سی کے مجوزہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ بہرحال نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کے سخت گیر وزراء پی اے کی حمایت کی تجاویز کے خلاف سامنے آئے ہیں۔ وزیرخزانہ بیزال سموٹریچ نے اعلان کیا کہ پی اے کو کوئی مالی رعایت نہیں دی جائے گی۔ وہ اسرائیل کی مذہبی صہیونیت پارٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ مغربی کنارے کے اسرائیل سے مکمل الحاق کی حمایت کرتے ہیں۔وزارتِ دفاع کا قلم دان بھی ان کے پاس ہے جس کے پاس غربِ اردن میں بستیوں کی تعمیر کا اختیار ہے۔

لیکن اگر نقدی کی کمی کا شکار فلسطینی اتھارٹی کو معاشی امداد مل بھی جاتی ہے تو اس سے فلسطینیوں کی نظروں میں اس کی ساکھ کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ جب نیتن یاہو نے پارلیمان کو بتایا کہ اسرائیل کو پی اے کی ضرورت ہے تو انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ایک آزاد ریاست کے قیام کے عزائم کو "کچلنے" کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح کے بیانات فلسطینیوں کے ذہنوں میں صرف اس بات کی تصدیق کریں گے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی قبضے کو جاری رکھنے کا ایک آلہ بن کر رہ گئی ہے، نہ کہ وہ ریاست کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔اگر اسرائیلی حکومت پی اے کے بنیادی سیاسی کردار کو کم زور کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو اس سے فلسطینیوں کی پی اے کے لیے حمایت اور سیاسی تصفیے پر یقین مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور اس طرح انتہا پسند گروہوں کو بااختیار بنایا جائے گاجو تشدد کی تباہ کن حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں