.

برطانوی ضمانت کی خلاف ورزی کرنے پر ابو قتادہ گرفتار

ابو قتادہ یورپ کے بااثر مبلغ شمار ہوتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن پولیس نے سخت گیر مبلغ ابو قتادہ کو ان کی جانب سے میبنہ طور پر ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری برطانوی حکومت کی جانب سے انہیں ملک بدر کرنے کی نئی کوشش سے چند روز پہلے عمل میں آئی ہے۔

یو کے بارڈر ایجنسی کے حکام نے ابو قتادہ کو لندن کی انسدادِ دہشت گردی پولیس کے چھاپے کے ایک روز بعد جمعہ کو گرفتار کیا۔

برطانوی حکومت ابو قتادہ کو ایک جج کی جانب سے برطانیہ میں رہنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو ختم کروانے کے لیے پیر کو کورٹ آف اپیل سے رجوع کرے گی۔

برطانیہ کی سیکرٹری داخلہ ٹریسا مے ابو قتادہ کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو کورٹ آف اپیل کے تین ججوں کے سامنے چیلنج کریں گی جس کی صدارت لارڈ ڈائسن کریں گے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یو کے بارڈر ایجنسی نے باون سالہ ابو قتادہ کو مبینہ طور پر ان کی جانب سے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا۔

خیال رہے کہ سپیشل امیگریشن اپیل کمیشن نے ابو قتادہ کی ضمانت کے حوالے سے سخت شرائط عائد کر رکھی ہیں۔ ترجمان کے مطابق سپیشل امیگریشن اپیل کمیشن ابو قتادہ کے کیس پر جلد از جلد غور کرے گی۔

میٹرو پولیٹن پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لندن کے شمال مغرب میں واقع ایک رہائشی ایڈریس، لندن کے مغرب میں رہائشی ایڈریس اور لندن کے شمال مغرب میں ایک بزنس ایڈریس پر تلاش مکمل کر لی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ابو قتادہ جن کا اصل نام ابو عثمان ہے، یورپ میں سب سے زیادہ با اثر اسلامی مبلغوں میں سے ایک ہیں اور وہ جہادیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ برطانوی جج انہیں ایک خطرناک شخص قرار دے چکے ہیں۔

ان کے خلاف برطانیہ میں کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا، لیکن انہیں بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے اور ایک کنٹرول آرڈر کے تحت ان کی حرکات و سکنات کو محدود کیا گیا ہے۔

ابو قتادہ سنہ انیس سو ترانوے میں دو مرتبہ ٹارچر سہنے کے بعد اردن سے فرار ہو کر برطانیہ آ گئے تھے۔