یورپی یونین کی سب سے بڑی عدالت نے یورپ کی کاروباری کمپنیوں کو بالواسطہ طور پر سکارف کے استعمال پر پابندی لگانے کی اجازت دے دی ہے۔ یورپی عدالت کے مطابق ' اگر ان کے ہاں کسی امتیاز کی بنیاد پر ایسا نہ ہوتو وہ اپنے ہاں کام کرنے والی خواتین کے سکارف اوڑھنے پر پابندی لگا سکتی ہیں۔ لیکن یہ پابندی کسی امتیاز کی بنیاد پر نہیں سب کے لیے ہونی چاہیے۔ '
یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ حکم جمعرات کے روز سنایا ہے۔ سر پر سکارف لینے کے ایشو سے متعلق یہ تازہ ترین فیصلہ ہے۔ اس معاملے نے یورپ کوکئی برسوں سے تقسیم کر رکھا ہے۔ سکارف لینے کی مخالف یورپی آبادی کے نزدیک اب یہ تقسیم ختم ہو سکتی ہے۔
یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ' یورپی عدالت نے بلجئیم کی ایک کمپنی میں چھ ہفتوں کی تربیت کے لیے آنے والی مسلمانوں کی ایک بیٹی سے کمپنی والوں نے کہا تھا کہ وہ کام کے دوران سر پر سکارف نہیں لے سکتی تو اس سے ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔
کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اس کے یہ قواعد غیر جانبدارانہ ہیں جبکہ مسلمانوں کی لڑکی کا کہنا تھا یہ امتیازی حکم ہے اور اس کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ اس کے خلاف مسلمان لڑکی اپنے شکایت بیلجیم کی ہی ایک عدالت میں لے گئی۔
جو بعد ازاں معاملہ لکسمبرگ میں قائم کورٹ آف جسٹس یورپی یونین میں پہنچ گیا۔ جس کا کہنا یہ سامنے آیا کہ اس طرح کی کسی پابندی کا نفاذ براہ راست امتیاز کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔
یورپی ججوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ پابندی سب کارکنوں پر عاید ہو اور کسی پرالگ سے نہ لگائی گئی ہو تو یہ امتیازی پابندی نہیں ہو گی۔
یورپی یونین کی عدالت نے پچھلے سال قرار دیا تھا کہ کوئی کمپنی متعین شرائط کے ساتھ اپنے کارکنوں کو سکارف کا استعمال کرنے سے روک سکتی ہے۔ اگر کمپنی اپنے منصوبے کا تشخص اپنے صارفین کے سامنے غیر جانبدارانہ رکھنا چاہتی ہے۔
واضح رہے جرمنی میں کئی برسوں سے سکارف پر پابندی ایک متنازع معاملہ ہے۔ فرانس جو کہ یورپی ممالک میں سب سے بڑی مسلم اقلیت والا ملک ہے اس میں بھی مسلمان بچیوں کے سکول میں سکارف سر پر لینے پر پابندی عاید ہے۔
-
برطانیہ نے خواتین کے ساتھ ناروابرتاؤ پرایران کی ’اخلاقی پولیس‘پرپابندی عایدکردی
برطانیہ نے ایران کے سکیورٹی اداروں کے سینیر عہدے داروں اوراس کی’’نام نہاد اخلاقی ...
بين الاقوامى -
’محاسبے کا وقت آگیا‘ یورپی یونین کا متفقہ طورپرایران پرپابندیوں کا فیصلہ
یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے بدھ کی شام کو نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے ...
مشرق وسطی -
امریکی ویزا قوانین میں تبدیلی، بعض طالبان ارکان کے ویزوں پر پابندی لگ گئی
امریکی فیصلہ دوطرفہ تعلقات کی پیش رفت میں رکاوٹ بنے گا: افغان وزارت خارجہ
بين الاقوامى