ایرانی پولیس سرحد تک پہنچنے سے پہلے ہم سے رقم بٹور لیتی ہے: افغان پناہ گزین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

افغان پناہ گزینوں نے "العربیہ " کو بتایا ہے کہ ایرانی پولیس کے اہلکار افغانستان واپس آنے والوں سے رقم بٹور لیتے ہیں اور انہیں راستہ جاری رکھنے کی اجازت دینے سے پہلے ان سے رقوم لیتے ہیں، ایسے وقت میں جب ایران سے آنے والوں کی طرف سے ان کے پیسے اور املاک ضبط کیے جانے اور ملک بدری سے پہلے اپنے مالی حقوق حاصل کرنے میں ناکامی کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران سے واپس آنے والے ایک افغان پناہ گزین نے بتایا کہ متعدد افغان جو سرحد کے راستے میں تھے، انہیں براہ راست بھتہ خوری کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ پولیس اہلکاروں نے ان کی نقل و حرکت کو آسان بنانے یا ایرانی سرزمیں سے ان کے اخراج کے طریقہ کار کو تیز کرنے کے بہانے رقم کا مطالبہ کیا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ بہت سے افغان جنہیں ملک بدر کیا جا رہا ہے، وہ اپنی ملازمتیں کھو چکے تھے یا افغانستان واپس بھیجے جانے سے پہلے آجروں سے اپنے مالی واجبات وصول نہیں کر سکے تھے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ ان میں سے کچھ راستے میں یا حراستی اور ملک بدری کے مراکز کے اندر رقم ادا کرنے کے بعد تقریباً بغیر پیسوں کے سرحد پر پہنچے۔

سرحد کے راستے میں بھتہ خوری

یہ کہانیاں ان شہادتوں کے عین مطابق ہیں جو انسانی حقوق کی ویب سائٹس اور تنظیموں نے ایران سے واپس آنے والے افغانوں کے حوالے سے نقل کی ہیں۔ ان افغانوں نے کہا کہ انہوں نے تہران اور اصفہان سمیت ایرانی شہروں سے افغان سرحد کے راستے میں فیس اور رشوت ادا کی۔

ان رپورٹوں میں بعض واپس آنے والوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی پولیس اہلکاروں اور ملک بدری کے مراکز کے حکام کو رقم دینا اب باہر نکلنے کے سفر کا حصہ بن چکا ہے۔ افغانوں کا ایران سے نکلنا چاہے رضاکارانہ طور پر ہو یا انہیں زبردستی ملک بدر کیا جارہا ہو، دونوں صورتوں میں انہیں رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

ایران سے واپس آنے والی ایک افغان خاتون نے بتایا کہ ان کے خاندان سے سرحد کے پورے راستے میں رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک اور واپس آنے والے نے بتایا کہ رقم ادا کرنا ایران چھوڑنے کے خواہشمند یا وہاں سے ملک بدر کیے جانے والے افغانوں کی قیمت پر ایک کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔

انسانی حقوق کی رپورٹوں میں افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے ارکان کو حراستی مراکز سے نکالنے کے لیے سینکڑوں ڈالر ادا کیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی لاگت صرف نقل و حمل تک محدود نہیں ہے بلکہ بعض اوقات اس میں خود حراست سے نکلنا بھی شامل ہے۔

اسلام قلعہ کراسنگ سے شہادتیں

مغربی افغانستان میں صوبہ ہرات کے اسلام قلعہ کراسنگ پر ایسے افغان میڈیا نے واپس آنے والوں کی شہادتیں نقل کیں جنہوں نے کہا کہ ایرانی پولیس نے ان پر دباؤ ڈالا حالانکہ ان میں سے کچھ کے پاس قانونی دستاویزات موجود تھیں۔ واپس آنے والوں میں سے ایک نے بتایا کہ افغانوں کو ایران میں کام کرنے کی اجازت دینے کے بہانے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ دوسرے نے بتایا کہ اس کے پاس موجود تمام رقم افغانستان پہنچنے سے پہلے اس سے لے لی گئی تھی۔

واپس آنے والوں نے دستاویزات کو پھاڑنے یا کچھ ملک بدر کیے جانے والوں کے پاس رہائشی کاغذات کو تسلیم کرنے سے انکار کے بارے میں بھی انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کام کی اجرت نہ ملنے یا موبائل فون اور ذاتی املاک کو ضبط کرنے کی شکایات بھی کیں۔ یہ ایسی شکایات ہیں جو ایران سے واپس آنے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر دہرائی جاتی ہیں۔

ایرانی ردعمل

دوسری طرف ایرانی پولیس نے کہا ہے کہ جن افغانوں کے مالی مطالبات ہیں وہ امیگریشن پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے محکموں کو شکایات جمع کرا سکتے ہیں۔ ایرانی میڈیا نے گزشتہ سال ایرانی پولیس کے ترجمان سعید منتظر المہدی کے حوالے سے بتایا تھا کہ جن لوگوں کو ایران سے نکالا جا رہا ہے اور ان کے مالی واجبات باقی ہیں، وہ دستاویزات اور شواہد پیش کر کے امیگریشن حکام کو اپنی شکایات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پولیس غیر ملکیوں کے مالی مطالبات کی پیروی کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ شکایات کے اندراج اور انہیں خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک نظام کے قیام پر کام کیا جائے گا۔ تاہم واپس آنے والوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف شکایت کے طریقہ کار کی موجودگی کا نہیں ہے بلکہ ملک بدری کی رفتار اور اس کے حالات کا ہے۔ واپس آنے والوں کی شہادتوں کے مطابق بہت سے لوگوں کو اپنا سامان جمع کرنے، اپنی اجرت وصول کرنے یا کرائے کی ضمانتیں واپس لینے کے لیے کافی وقت نہیں ملتا۔ انہیں حراستی مراکز یا جمع کرنے کے مقامات اور پھر سرحد پر منتقل کرنا شکایات کی پیروی کو تقریبا ناممکن بنا دیتا ہے۔

خلاف ورزیاں اور جسمانی تشدد

"ہیومن رائٹس واچ" نے اپنی ایک سابق رپورٹ میں ایران میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی تھی۔ ان رپورٹس میں جسمانی تشدد، غیر انسانی حالات میں حراست اور ملک بدری کے مراکز میں نقل و حمل اور رہائش کے اخراجات کی زبردستی ادائیگی کا بتایا گیا تھا۔ املاک کو ضبط کرنے اور ملک بدر کیے جانے والوں کو اپنے ملک واپس بھیجے جانے سے پہلے اپنے حالات کو ترتیب دینے کا کافی موقع نہ دینے سے متعلق خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

تنظیم ’’ ہیومن رائٹس واچ‘‘ نے کہا کہ ایرانی حکام کو افغانوں کے خلاف خلاف ورزیاں روکنی چاہئیں اور خطرے سے دوچار افراد کو ملک بدر نہ کرنے کو یقینی بنانا چاہیے۔ جن لوگوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے انہیں ایران سے نکالنے سے پہلے اپنی اجرتیں حاصل کرنے اور اپنی املاک کو ٹھکانے لگانے کا موقع دینا چاہیے۔

یہ الزامات ایران سے افغانستان واپسی کی ایک وسیع لہر کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ نیوز ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق اقوام متحدہ نے وارننگ دی ہے کہ 2023 کے آخر سے پڑوسی ممالک سے 5 ملین سے زیادہ افغانوں کی واپسی نے افغانستان میں امدادی نظام پر بڑا دباؤ ڈالا ہے کیونکہ روزانہ ہزاروں لوگ پہنچ رہے ہیں اور بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی اور غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بہت سے واپس آنے والے بغیر کسی بچت یا واضح ملازمت کے مواقع کے افغانستان پہنچ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں