غلطی اور غفلت کی وجہ سے پانی نے 431 امریکیوں کی جان لے لی

لاس اینجلس نے پانی کی قلت کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی تو ایک ایسی تباہی کا باعث بن گئی جس نے سیکڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بیسویں صدی کے آغاز میں امریکی شہر لاس اینجلس نے غیر معمولی ترقی کی، جس کے نتیجے میں آبادی میں زبردست اضافہ ہوا۔ اس ترقی کے ساتھ ساتھ صنعت و زراعت بھی تیزی سے بڑھی، لیکن خشک آب و ہوا کے باعث شہر کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے ڈیموں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔

اس دوران آئرش نژاد سول انجینئر ولیم مولہولنڈ مرکزی شخصیت کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے 1913ء میں اوینز وادی سے لاس اینجلس تک 300 کلومیٹر طویل پانی لانے کا منصوبہ مکمل کر کے شہرت حاصل کی۔ تاہم اس منصوبے کے لیے شہر کی جانب سے کسانوں کی زمینیں خریدے جانے پر شدید رد عمل آیا اور کسانوں نے پانی کی نہر کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ان مسائل سے بچنے اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے حکام نے ایک بڑا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا۔

سال 1924ء میں لاس اینجلس کے شمال میں سان فرانسسکو گھاٹی میں "سینٹ فرانسس ڈیم" کی تعمیر کا کام شروع ہوا، جس کی نگرانی خود ولیم مولہولنڈ نے کی۔ منصوبہ بندی کے مطابق اس ڈیم کی بلندی 56 میٹر اور لمبائی 210 میٹر رکھی گئی، جس میں 4.7 کروڑ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کیا جانا تھا۔ بدقسمتی سے تعمیر کے دوران ارضیاتی پہلوؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ ڈیم کا ایک حصہ ایسی مٹی اور چٹان پر بنایا گیا جو غیر مستحکم تھی اور اس مقام پر ماضی میں زمین کھسکنے کے آثار بھی موجود تھے۔

انجینئر ولیم ملہولینڈ کی تصویر
انجینئر ولیم ملہولینڈ کی تصویر

سال 1926ء میں یہ ڈیم مکمل ہوا جسے اس وقت ایک "انجینئرنگ کا معجزہ" قرار دیا گیا۔ تاہم تعمیر کے کچھ ہی عرصے بعد ڈیم میں دراڑیں اور پانی کا رساؤ شروع ہو گیا، جس سے اس کا نچلا ڈھانچہ کمزور پڑ گیا۔ 12 مارچ 1928ء کی رات یہ عظیم ڈیم اچانک ٹوٹ گیا جس سے 4.7 کروڑ مکعب میٹر پانی کا ایک طوفان نکل کر کئی کلومیٹر تک پھیل گیا۔ اس تباہی میں تقریباً 1400 عمارتیں اور کئی پل بہہ گئے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 431 افراد ہلاک ہوئے۔

ڈیم کے ٹوٹنے کے بعد اس کا ایک حصہ

اس سانحے نے لاس اینجلس کو شدید معاشی دھچکا پہنچایا۔ ولیم مولہولنڈ نے اپنی غلطی اور غفلت کا اعتراف کیا، جس کے بعد ان کا انجینئرنگ کا کیریئر ختم ہو گیا۔ اس المیے کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایسے بڑے منصوبوں کی تعمیر کے لیے حفاظتی معیارات اور سخت نگرانی کا نیا قانون نافذ کیا تاکہ مستقبل میں ایسی انسانی اور معاشی تباہیوں سے بچا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں