Your browser doesn’t support HTML5 video
کویت مسجد بمبار کی اہم معلومات 'العربیہ' کو موصول
"حملہ آور اپنے اہل خانہ سے بھی الجھتا رہتا تھا"
کویت میں جمعہ کے روز اہل تشیع کی جامع مسجد امام جعفر الصادق میں مبینہ طور پر خود کش بم حملہ کرنے میں ملوث شدت پسند فہد القباع کی شناخت کے بعد "العربیہ" نے سعودی عرب میں اس کے خاندان سے رابطہ کیا ہے اور حملہ آور کے بارے میں مزید اہم معلومات حاصل کی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فہد القباع اس وقت سوشل میڈیا پر بھی زیربحث ہے اور لوگ اس پر طرح طرح کے تبصرے کررہے ہیں تاہم اس کے خاندان کے ایک ذریعے نے العربیہ کو اس کے بارے میں کئی اہم باتیں بھی بتائیں۔
سیکیورٹی کے نقطہ نظر ذریعے کی شناخت ظاہر نہیں کی جارہی۔ اس نے بتایا کہ فہد القباع پچپن ہی سے خاندان کے دیگر افراد سے مختلف سوچ کا مالک رہا ہے۔ گھرمیں بھی معمولی باتوں پر وہ لڑائی جھگڑے پر اتر آتا تھا۔
حملہ آور القباع نے صرف اسکول کی تعلیم حاصل کی اور اس نے تعلیم ترک کر کے پچھلے 20 سال سے اپنے والد کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہوگیا تھا۔ اس نے سرکاری نوکری یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ یہ حرام ہے تاہم اپنے ایک کزن کی وساطت سے اس نے دو مرتبہ پرائیویٹ جاب کی تھی۔ وہ بھی زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہی۔
ذریعے کا کہنا ہے کہ رواں ماہ صیام سے قبل بھی فہد القباع کے خاندان کے لوگ ایک محفل میں جمع تھے۔ اس موقع پر القباع نے خانگی امور میں بھی سخت اختلافات کا اظہار کیا اور اٹھ کر چلا گیا۔ شدت پسندانہ خیالات رکھنے کے باوجود اس کے شام یا عراق جانے اور داعشی نظریات اختیار کرنے کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔ البتہ اس کے کچھ اقارب شدت پسندانہ نظریات رکھنے کی پاداش میں جیلوں میں بھی قید ہیں۔
اسی بارے میں
-
کویت: مسجد پر حملہ کرنے والے سعودی بمبار کی شناخت -
کویت مسجد حملہ، بمبار کے ڈرائیور سمیت متعدد زیر حراست -
کویت میں دہشت گردی، 'حزب اللہ' سے 'داعش' تک -
امیر کویت سے شہریوں اور عالمی رہنماوں کا اظہار تعزیت -
کویت، فرانس، تیونس دہشت گردی میں تعلق ثابت نہیں ہوا: امریکا -
کویت: مسجد پر داعش کے حملے میں 25 افراد ہلاک