کویت، فرانس، تیونس دہشت گردی میں تعلق ثابت نہیں ہوا: امریکا
امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کل جمعہ کے روز کویت، تیونس اور فرانس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے باہم مربوط ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ تاہم وزارت خارجہ نے ان واقعات کو دہشت گردانہ کارروائیاں قرار دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ آٰیا گذشتہ روز تیونس اور کویت کی مساجد اور فرانس میں ایک شخص کے قتل کے واقعات میں کسی قسم کا باہمی تعلق ہے یا نہیں لیکن ابھی تک انہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ تاہم ترجمان نے ان حملوں کو دہشت گردانہ کارروائیاں قرار دیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز کویت میں اہل تشیع کی ایک جامع مسجد میں ہونے والے دھماکے میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح گذشتہ روز تیونس کے ساحلی شہر سوسہ میں دو ہوٹلوں میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں میں 27 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات آئی ہیں۔ بعض ذرائع ہلاکتوں کی تعداد 37 بتاتے ہیں۔ مرنے والوں میں برطانیہ، جرمنی اور بیلجیم کے شہری بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس میں ایک دہشت گردانہ حملے میں مصنوعی گیس کے ایک کارخانے میں کام کرنے والے شخص پر حملہ کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔
-
تیونس :سیاحتی ساحلی مقام پر حملے میں 37 افراد ہلاک
کلاشنکوف سے مسلح شخص کی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ
بين الاقوامى -
فرانس :امریکی ملکیتی فیکٹری پر حملے میں ایک ہلاک
لیون میں واقع گیس فیکٹری پر حملے کے الزام میں مشتبہ مسلم نوجوان گرفتار
بين الاقوامى -
کویت: مسجد پر داعش کے حملے میں 25 افراد ہلاک
شیعہ مسلک کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش بم دھماکے میں 200 زخمی
بين الاقوامى