arab saudi couple marriage family divorce

سعودی عرب کے عائلی قانون میں اہم ترمیم، خواتین کے حقوق کو مزید تحفظ دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے خواتین کے حقوق کو مزید تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے شادی سے متعلق اپنے عائلی قانون میں اہم تبدیلی کی ہے جس کے بموجب اب شوہر اپنی بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف اپنے گھر آبادکاری پر مجبور نہیں کر سکے گا کیونکہ شادی قانون کے تحت گھریلو اطاعت گذاری کی شق کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔

شادی قانون میں ترمیم کے بعد بیوی کو اس کی مرضی کے خلاف شوہر اپنے گھر لانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ متعلقہ شق کی منسوخی دراصل خواتین کے وقار کا ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ نیر اس ترمیم کے ذریعے شادی جیسے مقدس رشتے کو باہمی رضا ورغبت کی بنا پر استوار کیا جا رہا ہے۔

کثیر الاشاعت عرب روزنامہ "عکاظ" کا کہنا ترمیم کے بعد عورت کے پاس دو اختیارات ہوں گے جس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اولا، وہ شوہر سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ اگر اس کا شوہر طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو وہ خلع حاصل کرنے کے لئے اپنا حق مہر لوٹا کر خود کو شادی کے بندھن سے آزاد کرا سکتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں