بے خوابی سے نجات کے لیے چار آسان ورزشیں جو سکون بخش نیند کا ذریعہ بن سکتی ہیں:تحقیق
نیند کی کمی سے پریشان افراد کے لیے ایک خوشخبری سامنے آئی ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق دن کے وقت مخصوص جسمانی ورزشیں کرنے سے رات کو بہتر اور گہری نیند ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
چین کے محققین نے 22 کلینیکل تجربات کا جائزہ لیا، جن میں 1300 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ تحقیق میں 13 مختلف طریقوں کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا، جن میں 7 قسم کی جسمانی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔
ان ورزشوں میں یوگا، چہل قدمی یا دوڑ، مشترکہ ٹریننگ، طاقت بڑھانے کی مشقیں اور دیگر سرگرمیاں شامل تھیں۔ تحقیق کے مطابق یوگا خاص طور پر مؤثر ثابت ہوا، جو نہ صرف نیند کے مجموعی دورانیے کو دو گھنٹے تک بڑھا سکتا ہے بلکہ سونے سے پہلے کے انتظار کے وقت کو ایک گھنٹہ کم کر سکتا ہے۔
ایروبک ورزشیں: دل کی دھڑکن اور نیند کا تعلق
برطانوی ماہرِ نیند ڈاکٹر ہنا پیٹل کا کہنا ہے کہ ایسی ایروبک ورزشیں جو دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار کو بڑھاتی ہیں جیسے دوڑنا یا سائیکل چلانا، نیند میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان کے بہ قول یہ ورزشیں ذہنی دباؤ کم کرنے اور بلڈ پریشر کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یہ خاص طور پر اُن افراد کے لیے مفید ہیں جنہیں بے چینی کے باعث نیند نہیں آتی۔
طاقتور پٹھے، پرسکون دماغ
ڈاکٹر پیٹل مشورہ دیتی ہیں کہ ایروبک ورزشوں کو طاقت بڑھانے والی مشقوں جیسے ویٹ لفٹنگ یا ربڑ بینڈز کے ساتھ بھی کیا جائے، تاکہ زیادہ متوازن اور مؤثر نتیجہ حاصل ہو۔ ان ورزشوں سے جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اور نیند کا معیار بہتر بنتا ہے۔
یوگا اور گہری سانسیں: ذہنی سکون کا نسخہ
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سونے سے قبل جسم کو کھینچنے (stretching) اور گہری سانس لینے کی عادت اپنائی جائے۔ ڈاکٹر پیٹل کے مطابق، یوگا نہ صرف ذہنی آگاہی کو بڑھاتاہے بلکہ اعصابی نظام کو پرسکون کرتا ہے اور گہری سانس لینے کی مشقیں نیند کے معیار کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں۔
چہل قدمی: ہر عمر کے لیے آسان حل
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کھلی فضا میں ہلکی پھلکی چہل قدمی ذہنی دباؤ اور بے چینی کو کم کرتی ہے۔ یہ سرگرمی ہر عمر اور ہر فٹنس سطح کے افراد کے لیے موزوں ہے۔ چہل قدمی سے نہ صرف موڈ بہتر ہوتا ہے بلکہ نیند کا معیار اور جسمانی توانائی کی سطح بھی بہتر ہوتی ہے۔
دماغ، ہارمونز اور نیند: سب کچھ جُڑا ہوا ہے
نیند کے ماہر ڈاکٹر گرین ایلڈر کے مطابق جسمانی سرگرمیوں کا براہِ راست اثر دماغ، مزاج اور ہارمونز پر پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ورزش سے دماغ کی نیند کے دوران سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر "سلو ویو" یعنی گہری نیند کے مرحلے میں، جو جسمانی اور ذہنی بحالی کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ورزشیں نیند سے جُڑے ہارمونز جیسے "میلاٹونن" (جو نیند اور بیداری کے چکر کو منظم کرتا ہے) اور "کورٹی زول" (جو تناؤ پیدا کرتا ہے) پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس طرح، روزانہ کی معمولی ورزش بھی پرسکون نیند کا باعث بن سکتی ہے۔