شدید گرمی میں جسم کو ہائیڈریٹ کرنے کے لیے بہترین مشروب

کلیولینڈ کلینک کے مطابق شوگر اور کیفین والے مشروبات پانی کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

یہ بات مشہور ہے کہ پسینہ آنا جسم کا خود کو ٹھنڈا کرنے کا طریقہ ہے۔ جب آپ کو پسینہ آتا ہے تو آپ کا جسم پانی، نمکیات اور دیگر معدنیات کھو دیتا ہے۔ لیکن جو آپ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ ان کھوئے ہوئے سیالوں کو تبدیل کرنے کے لیے آپ کو کتنے سیال کی ضرورت ہے۔

مستقل ہائیڈریشن کی ضرورت

ہارلیم میں نیویارک سٹی ہیلتھ ہسپتالوں کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کارا ٹوبمین کہتی ہیں کہ لوگ اکثر کافی سیال نہیں پیتے ہیں۔ دراصل آپ کو احساس سے زیادہ سیال پینے کی ضرورت ہے۔ ٹوبمین وضاحت کرتی ہیں کہ یہ تمام حالات پر لاگو ہوتا ہے، چاہے آپ ائر کنڈیشنگ کے نیچے گھر کے اندر بیٹھے ہوں، ورزش کر رہے ہوں، پول میں جا رہے ہوں یا شدید گرمی میں باہر کام کر رہے ہوں۔

ایک طاقتور موروثی میکانزم

شکاگو میں رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ماہر امراض نسواں ڈاکٹر راکھی کھنہ بتاتی ہیں کہ پیاس جسم میں ایک "طاقتور، وراثتی طریقہ کار" ہے جو ہائیڈریشن کی ضرورت کا اشارہ دیتی ہے۔ لیکن آپ کو ہمیشہ اس وقت تک انتظار نہیں کرنا چاہیے جب تک کہ آپ کو پیاس نہ لگے ، آپ کو دن بھر سیال پینا چاہیے، کھانے کے ساتھ بھی پانی پینا چاہیے۔

بہترین مشروب

یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر ڈلاس میں اندرونی ادویات کے پروفیسر کریگ کرینڈل کہتے ہیں کہ پانی یقینی طور پر پینے کے لیے بہترین مائع ہے۔ آپ پانی کھو دیتے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز، انجینئرنگ اور میڈیسن کا کہنا ہے کہ خواتین کو عام طور پر روزانہ تقریباً 2.7 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ مردوں کو 3.7 لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹومبین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پانی کی یہ مقدار ایک بنیادی لائن ہے۔ اگر آپ اپنے دن کا زیادہ تر حصہ گھر کے اندر گزارتے ہیں تو یہ کافی ہے لیکن کئی عوامل اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ آپ کو درحقیقت کتنا پانی پینے کی ضرورت ہے۔

راکھی کھنہ کہتی ہیں کہ مثال کے طور پر اگر آپ گرمی میں باہر کام کرتے ہیں تو شاید آپ کو زیادہ پانی پینے کی ضرورت ہے۔ کرینڈل کا کہنا ہے کہ جو بھی بہت زیادہ پسینہ بہاتا ہے جیسا کہ وہ ورزش کرتا ہے تو یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ جب آپ پسینہ کرتے ہیں تو آپ کتنا پانی جسم سے کھو دیتے ہیں۔

الیکٹرولائٹس

کرینڈل کہتے ہیں کہ بہت گرم دن میں جب آپ کو بہت زیادہ پسینہ آ رہا ہو۔ آپ کو لگتا ہے کہ

ایک سپورٹس ڈرنک جس میں الیکٹرولائٹس — سوڈیم اور دیگر معدنیات جو آپ کے جسم کو درکار ہیں — پانی سے بہتر آپشن ہے۔ اور کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ پسینے میں پانی اور الیکٹرولائٹس دونوں ہوتے ہیں۔ اسی لیے پسینے کا ذائقہ نمکین ہو گا کیونکہ جسم نمک اور پانی کھو دیتا ہے۔ اگر آپ صرف پانی پیتے ہیں تو آپ تقریباً پہلے گھنٹے تک ٹھیک ہو جائیں گے۔

دوسرے لفظوں میں کرینڈل نے یہ بھی کہا کہ صرف پانی پینا اس وقت کافی ہو سکتا ہے جب کسی شخص کو مختصر مدت (تقریباً ایک گھنٹہ) کے لیے پسینہ آتا ہے لیکن اگر پسینہ زیادہ آتا ہے- مثال کے طور پر اگر آپ تعمیراتی کام میں کام کرتے ہیں اور دن کا زیادہ تر وقت باہر گزارتے ہیں اور آپ کو زیادہ دیر تک پسینہ آ رہا ہے تو الیکٹرولائٹ ڈرنک مددگار ہے۔

کرینڈل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کھوئے ہوئے نمک کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو یہ خون میں نمک کی مقدار کو کم کر سکتا ہے جس سے ہائپوناٹریمیا، ایک سنگین حالت ہے جو علمی مسائل، متلی اور پٹھوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے، ہو سکتا ہے۔

مخصوص کیسز

تاہم نوبمین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے دن کا زیادہ تر حصہ بغیر پسینے کے گھر کے اندر گزارتا ہے تو اسے عام طور پر کھیلوں کے مشروب کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ کھانے سے کافی الیکٹرولائٹس حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ راکھی کھنہ مزید کہتی ہیں کہ اگر کسی کو متلی، الٹی، اسہال ہو یا اسے کھانا نہ کھانا ہو تو الیکٹرولائٹس پر مشتمل مشروب پینا ضروری ہے۔ اسی لیے الیکٹرولائٹ ڈرنکس اکثر گیسٹرائٹس کے لیے تجویز کی جاتی ہیں۔

ہائیڈریٹ رکھنے والے کھانے

راکھی کھنہ کا کہنا ہے کہ ایسی غذائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہ مجموعی طور پر ہائیڈریشن کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔ ان میں کھیرے، تربوز، لیٹش، ٹماٹر اور سٹرابیری شامل ہیں۔ نوبمین کہتی ہیں کہ آپ کو اپنے سیال کی مقدار کا تقریباً 20 فیصد کھانے سے حاصل ہوتا ہے اور ان میں سے بہت سے پانی سے بھرپور غذا دراصل آپ کے سیال کی مجموعی مقدار کو بڑھانے کا ایک مؤثر طریقہ ہے ان کھانوں میں کچھ الیکٹرولائٹس بھی ہوتی ہیں اور ذائقہ بڑھانے کے لیے انہیں سادہ پانی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

ناپسندیدہ مشروبات

کلیولینڈ کلینک کے مطابق میٹھے مشروبات اور کیفین پانی کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ٹوبمین کا کہنا ہے کہ کیفین ایک پیشاب آور ہے اور پانی کی کمی کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ لیکن کافی اور چائے ہمیشہ ہائیڈریشن کے لیے خراب نہیں ہوتیں۔ راکھی کھنہ کا کہنا ہے کہ آپ کافی سے اپنی پیاس بجھا سکتے ہیں تاہم یہ مثالی مشروب نہیں ہے۔ ٹوبمین نے کہا کہ کافی یا آئسڈ چائے کسی شخص کے سیال کی مقدار کو بڑھا سکتی ہے لہذا وہ بدل فراہمی کر رہے ہیں خاص طور پر اگر اس میں بہت زیادہ چینی شامل نہیں ہے۔

پانی کی کمی کی علامات

ٹومبین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص عام طور پر صحت مند ہے تو اس کی ہائیڈریشن کی سطح کا اندازہ لگانے کا سب سے آسان طریقہ اس کے پیشاب کی جانچ کرنا ہے۔ انہیں باقاعدگی سے پیشاب کرنا چاہئے اور اگر وہ نہیں کر رہے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ انہیں زیادہ سیال کی ضرورت ہے۔ پیشاب ہلکا پیلا ہونا چاہئے، اگر یہ گہرے رنگ کا ہے تو آپ کو مزید پانی کی ضرورت ہے۔

چکر آنا، تھکاوٹ، سر درد، متلی، پٹھوں میں درد، الجھن اور چڑچڑاپن پانی کی کمی کی علامات ہیں۔ اگر کسی شخص کو اس کا تجربہ ہوتا ہے تو کرینڈل کسی بھی جسمانی سرگرمی کو روکنے، ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں جانے اور جسم کو ہائیڈریٹ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ اگر وہ چند منٹوں میں بہتر محسوس نہیں کرتے ہیں تو انہیں طبی امداد لینے کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں