ٹھنڈے کمرے میں سونے کے پانچ حیرت انگیز فائدے

65 سے 68 ڈگری فارن ہائیٹ (Fahrenheit) درجہ حرارت میں نیند لینا صحت کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ نیند صحت مند اور توانا جسم کے لیے بنیاد ہے، مگر اس کے لیے چند شرائط بھی ہیں۔

ویب سائٹ Very Well Health کے مطابق، نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نسبتاً ٹھنڈے ماحول میں سونا، جہاں درجہ حرارت 65 سے 68 ڈگری فارن ہائیٹ (18.5 سے 20 ڈگری سیلسیس) ہو، آپ کی صحت کے لیے زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔

معیار میں بہتری

تحقیق کے نتائج کے مطابق، گرمی میں اکثر افراد کی نیند کم ہوجاتی ہے، تاہم ٹھنڈے کمرے میں سونا آپ کو زیادہ دیر تک اور بہتر معیار کی نیند دے سکتا ہے۔

تحقیق میں واضح کیا گیا کہ ٹھنڈا درجہ حرارت میلاٹونین ہارمون (Melatonin Hormone) کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جو جسم کو نیند کا وقت ہونے کا اشارہ دیتا ہے۔ اس سے آپ کو نیند آنے اور مسلسل سوتے رہنے میں مدد ملتی ہے اور مجموعی طور پر نیند کے معیار میں بہتری آتی ہے۔

تیزی

تحقیق کے مطابق، نیند کی تیاری کے دوران جسم کا درجہ حرارت قدرتی طور پر کم ہو جاتا ہے، اور سرد ماحول اس عمل کو تیز کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھنڈے کمرے میں رہنا جسم کو فوری طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ قیلولہ یا نیند کا وقت آ چکا ہے۔

یہ طریقہ آپ کو تیزی سے نیند میں جانے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ گرم درجہ حرارت نیند آنے میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔

رات کے پسینے کو کم کرتا ہے

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رات کو پسینہ آنا اور گرمی کے شدید جھونکے (جیسا کہ وہ خواتین محسوس کرتی ہیں جو سنِ یاس کے قریب ہوتی ہیں) نیند پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ اپنے کمرے کا درجہ حرارت ٹھنڈا رکھیں تو بہتر آرام حاصل کر سکتے ہیں۔

ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

مطالعے کے مطابق رات میں کمرے کا درجہ حرارت ٹھنڈا رکھنے سے میٹابولزم سے جڑی بیماریوں، خصوصاً شوگر، کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کم درجہ حرارت میٹابولزم (Metabolism) کو تیز کرتا ہے، خاص طور پر کیلوریز کو بہتر طریقے سے جلانے اور براؤن فیٹ (یا اچھے چربی والے خلیات) کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں جسم میں انسولین کی حساسیت زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔

بڑھاپے سے بچاؤ

میلاٹونین (Melatonin) دراصل ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو بڑھاپے کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

چونکہ ٹھنڈے ماحول میں نیند لینے سے میلاٹونین (Melatonin) کی پیداوار بڑھ سکتی ہے، اس لیے یہ مجموعی طور پر جسم میں بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ متعدد تحقیقات نیند کے معیار کو بہتر بنانے پر کام کر چکی ہیں اور ان میں زور دیا گیا ہے کہ نیند کے شیڈول پر مستقل مزاجی اختیار کرنا ضروری ہے، یعنی سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر رکھنا چاہیے۔

اسی طرح یہ بات بھی دھیان میں رکھنی چاہیے کہ نیند کا معیار اور نوعیت براہِ راست انسان کی صحت اور جسم پر اثر ڈالتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں