فٹ بال میں "ہیڈ" مارنے کے خطرات سے خبردار رہیں !
تحقیق میں یاد داشت پر اس عمل کے ممکنہ اثرات کا انکشاف
ایک امریکی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فٹ بال کھیلنے کے دوران سر سے گیند مارنے کی زیادہ مشق کھلاڑیوں کے دماغ میں گہری تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، جو یاد داشت اور سوچنے کی صلاحیت پر اثر ڈالتی ہیں۔
یہ تحقیقی مطالعہ جو نیورولوجی جریدے میں شائع ہوا، اس میں 350 سے زائد شوقیہ فٹ بال کھلاڑیوں اور تقریباً 80 غیر لمس والے کھیلوں کے کھلاڑیوں کے درمیان موازنہ کیا گیا۔
رضاکار کھلاڑیوں کے دماغ کے مخصوص حصوں میں پانی کے مالیکیول کی حرکت کو دیکھنے کے لیے ایم آر آئی اسکینز کیے گئے۔
مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو کھلاڑی سال میں 3 ہزار سے زیادہ بار سر سے گیند مارنے کی مشق کرتے ہیں، ان کے دماغ میں سفید مادے کے قریب ایک پتلی تہہ متاثر ہوتی ہے جو دماغی سطح کے قریب ہوتی ہے۔
امریکی یونیورسٹیوں فورڈہم، ڈیلاویر، کولمبیا اور البرٹ آئنسٹائن کی تحقیقاتی ٹیم نے رضاکاروں کے لیے سوچنے اور یاد داشت کی صلاحیتوں کے ٹیسٹ بھی کیے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر مائیکل لیپٹن نے سائنس ریسرچ ویب سائٹ "ہیلتھ ڈے" سے بات کرتے ہوئے کہا "اگرچہ ورزش سے دماغی افعال کے زوال کو کم کرنے کے امکانات سمیت بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، لیکن کچھ لمس والے کھیلوں میں بار بار سر پر جھٹکا لگانا، جیسے فٹ بال وغیرہ ان فوائد کو ختم کر سکتا ہے۔"
تحقیقاتی ٹیم کے اراکین نے بتایا کہ اس مطالعے نے سر سے گیند مارنے اور دماغی صلاحیتوں کے زوال کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا، لیکن اس نے دماغ کے کچھ ایسے حصوں کی نشان دہی کی جو اس مشق کے نتیجے میں خطرے میں آ سکتے ہیں۔