ندوة الحج الكبرى
سعودی عرب: حج کانفرنس اختتام پذیر، شرعی اور ثقافتی پہلوؤں کو فروغ دینے میں اہم کردار
سعودی عرب میں عالم اسلام کے مختلف حصوں سے چنیدہ علماء اور محققین کی شرکت کے ساتھ حج و عمرہ کی وزارت کے زیر اہتمام حج کی عظیم کانفرنس اپنے 49 ویں دور میں اتوار کو جدہ میں اختتام پذیر ہوگئی۔
وزارت حج و عمرہ نے سینئر علماء کونسل اور شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے تعاون سے "حج میں استطاعت اور عصری پیش رفت" کے عنوان سے منعقد کی تھی۔
سعودی حج و عمرہ کے وزیر ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے کانفرنس کے کام کو ایک اسلامی علمی پلیٹ فارم قرار دیا جو عالم اسلام کے بڑے مفکرین کو اکٹھا کرتا ہے تاکہ اس عظیم عبادت کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور اس کے شرعی اور ثقافتی پہلوؤں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ کانفرنس چار دہائیوں سے فکری تبادلے کا ایک پلیٹ فارم اور تعمیری مکالمے کا ایک مرکز رہی ہے۔ یہ کانفرنس اس سال حج کی تیاریاں مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے اور مملکت کے ویژن 2030 اور ضیوف الرحمن کی خدمت کے پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔ اس سال ضیوف الرحمان کی خدمت کے پروگرام میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے تاکہ حاجیوں کے لیے آسانی پیدا کی جا سکے۔
حج کانفرنس
پروگراموں اور اقدامات کا ایک مجموعہ
ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ اس سال متعدد پروگرام اور اقدامات شروع کیے گئے ہیں جن میں مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کے لیے رائل کمیشن کی طرف سے اپنائے گئے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں۔ اس سال 170 ہزار مربع میٹر کو سایہ دار بنایا گیا ہے۔ 20 ہزار درخت لگائے گئے ہیں اور ربڑ کے راستے بنائے گئے ہیں۔
صحت خدمات کے نظام کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ایک نیا ایمرجنسی ہسپتال، 15 ایمبولینس یونٹ، 71 فوری مداخلت کے مراکز اور 64 دو منزلہ صحت کمپلیکس بنایا گیا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات میں نقل و حمل کے لیے ایک ادارہ جاتی ماڈل کے طور پر جنرل ٹرانسپورٹ سینٹر کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ ایک لچکدار آپریشنل منصوبہ ہے جس میں بسیں اور مشاعر ٹرین شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی دیکھ بھال کے لیے جنرل اتھارٹی نے ایک جدید آپریشنل پیکیج کے ذریعے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے تاکہ حج کے تجربے کو بہتر بنایا جائے۔ آڈیو سسٹم کو بہتر بنایا گیا ہے اور بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز میں سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
حج وزیر نے اپنی تقریر کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ مختلف اداروں کے درمیان جو ہم آہنگی اور تیاری ہم دیکھ رہے ہیں وہ ضیوف الرحمن کی دیکھ بھال کے لیے سعودی قیادت کی لگن کو بھی ظاہر کر رہی ہے۔
ایک مضبوط نقطہ نظر کا تسلسل
خادم حرمین شریفین کے خصوصی مشیر اور شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ حاجیوں اور معتمرین کی خدمت میں مسلسل دلچسپی اس ریاست کے قیام کے بعد سے قائم شدہ مضبوط نقطہ نظر کا تسلسل ہے۔ یہ نقطہ نظر تمام سہولیات کو آسان بنانے، مناسک کی ادائیگی کو آسان بنانے اور حاجیوں اور معتمرین کی خدمت کو جدید بنیادی ڈھانچے کے ذریعے بلند کرنے پر مبنی ہے۔
سعودی قیادت نے حج اور حرمین شریفین کی تاریخ کے فورم کے آغاز کا اعلان کیا جسے فاؤنڈیشن وزارت حج کے تعاون سے منظم کرے گی تاکہ یہ ایک اہم علمی اور ثقافتی پلیٹ فارم بن سکے جو حرمین شریفین کے تہذیبی ورثے کو فروغ دے اور دنیا کے مختلف ممالک سے علمی تبادلے اور تحقیق کے لیے ایک معلوماتی اور متحرک ماحول پیدا کرنے میں معاون ہو۔
استطاعت کی عصری صورتیں
سعودی عرب کے مفتی اعظم، سینئر علماء کونسل کے سربراہ اور علمی تحقیق و افتاء کے جنرل صدر شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے اپنی تقریر، جو ان کی طرف سے سینئر علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر فہد الماجد نے پیش کی، میں کہا کہ یہ مبارک کانفرنس چالیس سال سے بھی پہلے سے شروع ہوئی تھی۔ اس میں مختلف ادوار میں حج کی عبادت اور امت مسلمہ کے امور سے متعلق اہم موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریضہ حج ان عظیم فرائض میں سے ہے جن میں تمام قسم کی عبادات شامل ہیں۔ اس میں آسانی کی ظاہری صورتیں بنیادی طور پر واضح ہیں کہ اس کی فرضیت کے لیے استطاعت کی شرط رکھی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ استطاعت میں سفر کے بوجھ کو برداشت کرنے اور حج کے اعمال ادا کرنے کے لیے بدنی استطاعت اور نقل و حمل، رہائش، خوراک، مشروبات اور دیگر اخراجات کی لاگت فراہم کرنے کے لیے مالی استطاعت شامل ہے ۔ یہ استطاعت حالات اور زمانوں کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ استطاعت کی عصری صورتوں میں سے ایک حج کا اجازت نامہ حاصل کرنا بھی ہے۔ لہذا جو شخص اسے حاصل نہیں کر سکتا اسے غیر مستطیع سمجھا جاتا ہے اگرچہ وہ مالی اور بدنی طور پر قابل ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں سینئر علماء کونسل کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جو اس سے متعلقہ حکم کو واضح کرتا ہے۔ حاجیوں کو استطاعت کی شرط کے بارے میں آگاہ کرنا متعلقہ حکام کی ترجیحات میں سے ہے کیونکہ استطاعت میں مفادات کا حصول، عبادات کی آسانی اور جانوں کا تحفظ شامل ہے۔
یاد رہے یہ کانفرنس وزارت حج و عمرہ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد اسلامی شریعت میں استطاعت کے تصور پر روشنی ڈالنا ہے۔ اسی طرح عصری پیشرفت کی روشنی میں اس کے فقہی پہلوؤں پر بحث کرنا ہے جو عبادت کی آسانی اور اسلامی شریعت کے مقاصد کے حصول میں معاون ہے۔